ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دکشن کنڑا ، اڈپی ضلع میں ایک سال کے عرصے میں 4,026 سڑک حادثات - 1,010 افراد نے گنوائی جان

دکشن کنڑا ، اڈپی ضلع میں ایک سال کے عرصے میں 4,026 سڑک حادثات - 1,010 افراد نے گنوائی جان

Wed, 04 Feb 2026 17:03:25    S O News

منگلورو/اُڈپی،  4 فروری (ایس او نیوز) دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع سے گزرنے والی قومی اور ریاستی شاہراہوں پر سڑک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد  سے عوام کے اندر خوف اور تشویش بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں ہائی ویز اور دیگر سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں ۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دسمبر میں ختم ہونے والے ایک سال کی مدت میں دو اضلاع میں کل 4,026 حادثات پیش آئے ہیں جن میں 1,010 جانیں گئیں ۔ جبکہ پچھلے برسوں کا جائزہ بتاتا ہے کہ 2021 میں 2,199 حادثات کے نتیجے میں 560 اموات ہوئیں، 2022 میں 3,102 حادثات میں 553 اموات ہوئیں، 2023 میں 3,177 حادثات میں 554 جانیں گئیں، جب کہ 2024 میں 3,092 حادثات کے نتیجے میں 567 اموات ہوئیں ۔ 
    
دیکھا گیا ہے کہ نیشنل ہائی وے 66 اور 169A کے ساتھ ساتھ کئی ریاستی شاہراہیں اور دیگر سڑکیں تیزی سے موت کے جال میں بدل رہی ہیں ۔ خاص طور پر قومی اور ریاستی شاہراہیں جہاں سڑکوں کی توسیع، انڈر پاس اور فلائی اوور کا تعمیری کام جاری ہے، اکثر حادثات کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں ۔ خاص طور پر رات کے اوقات میں لاریوں اور بھاری گاڑیوں کی تیز رفتاری حادثات کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آ رہی ہے ۔ ہائی وے کے جاری کاموں کی وجہ سے سڑک کی ترتیب، تیز موڑ اور اچانک موڑ موٹرسائیکلوں کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں ۔ کئی جگہوں پر نامکمل ڈیوائیڈرز اور پیدل چلنے والوں کو گزرنے کے لیے محفوظ سہولیات کا فقدان بھی بڑے خدشات بن گئے ہیں ۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق بہت سے حادثات کے پیچھے عوامی لاپرواہی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے ۔ ہیلمیٹ اور سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلانا، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال، غلط اوور ٹیکنگ اور نشے میں ڈرائیونگ جسیے اسباب حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں ۔

اگرچہ محکمہ پولیس کی طرف سے حادثات کی روک تھام کے لیے آگاہی اور بیداری مہم چلانے کے ساتھ  چیکنگ اور جرمانے عائد کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے، لیکن حادثات کی تعداد کم نہیں ہوئی ہے۔ 

دوسری طرف عوام کی طرف سے متعلقہ محکمہ جاتی افسران سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ حادثوں کے امکانات والے مقامات 'بلیک اسپاٹس' کی نشاندہی کریں اور تدارک کے لئے مناسب اقدامات کریں ۔

ہائی وے حادثات پر قابو پانے کے لیے سڑکوں کے سائنسی ڈیزائن، واضح سائن بورڈز کی تنصیب، اسپیڈ کنٹرول کیمروں اور پیدل چلنے والوں کے لئے پلوں کی تیزی سے تعمیر کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ کئی مقامات پر یک طرفہ ٹریفک کی پابندی سے بچنے کے لیے غلط سمت سے چلنے والی گاڑیاں بھی حادثات کا باعث بن رہی ہیں ۔ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جہاں سڑک کے بیچ میں خراب ہونے والی گاڑیوں کو وارننگ کے اشاروں کے ساتھ محفوظ طریقے سے کھڑی نہ کرنے کی وجہ سے دوسری گاڑیاں پیچھے سے ٹکرائی ہیں ۔  

موجودہ صورت حال کے بارے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل ہائی ویزعبداللہ جاوید نے کہا: "ہائی ویز پر حفاظت کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکام نے پہلے ہی انتباہی سائن بورڈز نصب کیے ہیں اور کئی مقامات پر احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں ۔ کئی حصوں میں کام جاری ہے اور اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ ہے ۔"


Share: