نئی دہلی، 5 جون (ایس او نیوز / ایجنسی): ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی اہم میٹنگ بدھ کے روز سے شروع ہو چکی ہے، جس میں شرح سود میں ممکنہ کمی کے فیصلے پر غور کیا جا رہا ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا 6 جون کو پالیسی کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ مالی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملکی معیشت کی سست روی کے پیش نظر ایم پی سی ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد (25 بیسس پوائنٹس) کی کمی کر سکتی ہے۔
نواما انسٹی ٹیوشنل ایکویٹیز کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ مالی سال 2024-25 کے اختتام تک ریپو ریٹ 5.25 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی مانگ میں مسلسل کمی، قرض کی شرح نمو میں سست رفتاری، آٹو اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی کمزور کارکردگی، اور گھریلو آمدنی میں کمی جیسے عوامل شرح سود میں تخفیف کے حق میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں افراط زر کی شرح گزشتہ تین مہینوں سے اوسطاً 4 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ اپریل 2025 میں افراط زر کی شرح 2.3 فیصد پر آ گئی، جو جولائی 2019 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کی کمزوری، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی آر بی آئی کو شرح سود میں نرمی کی اجازت دیتا ہے۔
آر بی آئی نے حالیہ مہینوں میں بینکاری نظام میں خاطر خواہ لیکویڈیٹی فراہم کی ہے۔ مئی میں سسٹم میں 1.7 لاکھ کروڑ روپے اور جون کے آغاز میں 2.5 لاکھ کروڑ سے زائد لیکویڈیٹی موجود تھی۔ اس کے باوجود، موجودہ حالات میں مزید نقد امداد کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی، تاہم مستقبل میں ضرورت پڑنے پر مرکزی بینک لچکدار مؤقف اپنا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کی رفتار میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ کمپنیوں کی آمدنی اور منافع گھٹ رہا ہے، صارفین کی قوت خرید کم ہو رہی ہے، اور حکومت کی مالیاتی پالیسی بھی سخت ہوتی جا رہی ہے۔ آٹو، ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے بھی سست روی کا شکار ہیں۔
کیئر ایج ریٹنگز نے رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اگرچہ مہنگائی میں کمی آئی ہے، لیکن عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، تجارتی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ تاہم بہتر مانسون اور زراعت میں بہتری مہنگائی کو مزید کم کر سکتی ہے۔
ریزو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے جون میں ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد کمی کا اعلان کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ معاشی سست روی برقرار رہی تو آر بی آئی آئندہ مہینوں میں مزید اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔