نئی دہلی،5/جون (ایس او نیوز /ایجنسی) اب تَتکال ٹکٹ حاصل کرنا ہوگا بہت آسان، کیونکہ بھارتی ریلوے نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے جس سے لاکھوں مسافروں کو سہولت ملے گی۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے 4 جون 2025 کو ایکس (X) پر اعلان کیا کہ تَتکال ٹکٹ کی بکنگ کے لیے جلد ہی ای-آدھار تصدیق لازمی کی جائے گی۔ یہ اقدام خاص طور پر ان مسافروں کے لیے فائدہ مند ہوگا جو آخری لمحے میں سفر کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور جنہیں اکثر ٹکٹ حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تَتکال ٹکٹ کی بکنگ کے دوران مسافروں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سب سے بڑا مسئلہ بلیک مارکیٹنگ اور ایجنٹس کی جانب سے ٹکٹوں کی ذخیرہ اندوزی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ٹکٹ کھلتے ہی چند لمحوں میں ہی ختم ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایجنٹس خودکار سافٹ ویئرز (بوٹس) کا استعمال کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ٹکٹ بک کر لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حقیقی مسافر، جو اپنی شناخت کے ساتھ ٹکٹ بک کرنا چاہتے ہیں، محروم رہ جاتے ہیں۔ مزید برآں، جعلی آئی ڈی اور غیر مجاز اکاؤنٹس کے ذریعے بھی ٹکٹوں کی بکنگ کی جاتی ہے، جس سے نظام میں شفافیت کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے، بھارتی ریلوے نے ای-آدھار تصدیق کو لازمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت، تَتکال ٹکٹ بک کرتے وقت مسافر کو اپنے آدھار نمبر کے ذریعے تصدیق کرنی ہوگی، جس کے لیے ایک ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) بھیجا جائے گا۔ یہ تصدیق آن لائن بکنگ کے ساتھ ساتھ ریلوے کاؤنٹرز پر بھی لازمی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد بلیک مارکیٹنگ کو روکنا، جعلی آئی ڈی کا استعمال ختم کرنا، اور حقیقی مسافروں کو ترجیح دینا ہے۔ ریلوے کے مطابق، آدھار سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کو تَتکال بکنگ کے پہلے 10 منٹ میں ترجیح دی جائے گی، اور اس دوران IRCTC کے مجاز ایجنٹس بھی ٹکٹ بک نہیں کر سکیں گے۔
یہ نیا نظام جون 2025 کے آخر تک نافذ ہونے کی توقع ہے۔ اس کے تحت، IRCTC کے تمام اکاؤنٹس کی آدھار کے ذریعے تصدیق کی جائے گی، اور مشتبہ یا غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹس کو بند کر دیا جائے گا۔ ریلوے کے مطابق، اس وقت IRCTC کے 13 کروڑ فعال صارفین میں سے صرف 1.2 کروڑ اکاؤنٹس آدھار سے تصدیق شدہ ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی حکومت نے بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر ویٹنگ لسٹ والے مسافروں کی تعداد کم کرنے کے لیے اقدامات کیے تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ھارتی ریلوے اپنے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
اس نئے اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ تَتکال ٹکٹوں کی دستیابی میں بہتری آئے گی، بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ ہوگا، اور مسافروں کو ایک شفاف اور منصفانہ نظام فراہم کیا جائے گا۔ ریلوے کے اس قدم سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ نظام میں اعتماد بھی بحال ہوگا۔