ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پیپر لیک ’سسٹم فیلور‘ کا نتیجہ، صرف سخت سزاؤں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا: نیہا بورا

پیپر لیک ’سسٹم فیلور‘ کا نتیجہ، صرف سخت سزاؤں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا: نیہا بورا

Wed, 12 Aug 2026 19:47:27    S O News

نئی دہلی، 12/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا) کی صدر نیہا بورا نے جین زی رائزنگ ٹور کے دوسرے پڑائو میں کولکاتا میں منعقدہ پروگرام اور پھر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات دراصل نظامِ تعلیم میں موجود خامیوں سے پیدا ہونے والا ’’سسٹم کا مسئلہ‘‘ ہے اور محض سزاؤں میں اضافہ کرکے اس کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔

نیہا بورا نے کہا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے سے متعلق مجوزہ قانون میں زیادہ توجہ اس بات پر دی گئی ہے کہ پرچہ لیک ہونے کے بعد کیا کارروائی کی جائے لیکن ان بنیادی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ نہیں دی گئی جو ایسے واقعات کو جنم دیتی ہیں۔ نیہا بورا نے سوال اٹھایا کہ کیا صرف سزاؤں کو سخت کرنے سے پیپر لیک ہونے کے واقعات واقعی رک جائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا نظامِ تعلیم’’سسٹم فیلور‘‘ کا سامنا کر رہا ہے تو آپ صرف سزائیں بڑھا کر اور قوانین بنا کر اسے حل نہیں کرسکتے۔ جے این یو کی پی ایچ ڈی اسکالر اورآئیسا کی صدر نے کہا کہ فرض کریں کسی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات ۱۱؍ ماہ کے اندر مکمل بھی ہوجاتی ہیں لیکن تب تک طلبہ کا داخلے کا پورا ایک تعلیمی دور ختم ہوچکا ہوگا۔ اس صورت میں محض قانونی کارروائی طلبہ کو ہونے والے نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتی۔

انہوں نے طلبہ کی تحریکوں کے دفاع میں اپوزیشن اور غیر بی جے پی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ غیر بی جے پی ریاستوں میں برسر اقتدار سیاسی جماعتوں کو پیپر لیک روکنے کیلئے مثالی طریق کار نافذ کرنا چاہئے جسے دوسرے بھی اپناسکیں اور طلبہ کو پیپر لیک سے بچاسکیں۔


Share: