ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں رابطہ تعلیمی ایوارڈ کی شاندار تقریب؛ 29 ہونہار طلبہ و طالبات کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا

بھٹکل میں رابطہ تعلیمی ایوارڈ کی شاندار تقریب؛ 29 ہونہار طلبہ و طالبات کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا

Mon, 10 Aug 2026 21:09:56    S O News
بھٹکل میں رابطہ تعلیمی ایوارڈ کی شاندار تقریب؛ 29 ہونہار طلبہ و طالبات کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا

بھٹکل، 10 اگست (ایس او نیوز): گلف کی دس بھٹکلی جماعتوں پر مشتمل بھٹکل مسلم خلیج کونسل، جسے رابطہ سوسائٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے زیر اہتمام 34ویں سالانہ رابطہ تعلیمی ایوارڈ کی شاندار تقریب اتوار، 9 اگست کو اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے وسیع میدان میں منعقد ہوئی، جس میں بھٹکل سمیت بیرونِ بھٹکل اور بیرونِ ہند اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 29 ہونہار بھٹکلی طلبہ و طالبات کو رابطہ گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ ان میں اترکنڑا ضلع کے کمٹہ سے تعلق رکھنے والے میٹرک کے ڈسٹرکٹ ٹاپر بھی شامل ہیں۔

تقریب میں نمایاں بات یہ رہی کہ مجموعی طور پر دیے گئے 29 ایوارڈز میں سے صرف چھ ایوارڈز لڑکوں کے حصے میں آئے، جن میں دو ایوارڈز عالمیت کے لیے جبکہ ایک ایوارڈ ایس ایس ایل سی میں ضلع ٹاپر رہنے پر دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں میٹرک، سیکنڈ پی یو سی، ڈگری اور دیگر تعلیمی شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23 طالبات نے ایوارڈ حاصل کیے۔ یہ تناسب بھٹکل کی طالبات کی تعلیمی میدان میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کو نمایاں کرتا ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی نئی دہلی سے تشریف لائے معروف ماہرِ تعلیم سمیر احمد صدیقی نے اپنے خطاب میں طالبات کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج ہماری بچیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس قوم کی بچیاں اتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوں، وہاں ان کے لیے مناسب رشتے آسانی سے نہیں ملتے۔

انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو اپنا شریکِ حیات منتخب کیا جو ایماندار، بہترین اخلاق کا حامل اور دنیا کی سب سے شاندار ہستی، حضرت محمد ﷺ تھے۔ اسی طرح آج تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے والی بچیوں اور ان کے والدین کی بھی یہی خواہش ہے کہ ان کی بیٹیوں کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب ہو جو ایماندار، اعلیٰ کردار کے مالک، اللہ سے ڈرنے والے اور اپنے اچھے اخلاق و کردار سے لوگوں کے دل جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

سمیر احمد صدیقی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں روزگار کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور مصنوعی ذہانت متعدد شعبوں میں انسانی ملازمتوں کی جگہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق آنے والے وقت میں نوجوانوں کو ملازمت کے حصول کے لیے روایتی انداز میں انٹرویو دینے کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کو اس انداز میں پیش کرنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت خود ان کی پروفائل متعلقہ کمپنیوں تک پہنچائے اور کمپنیاں براہِ راست انہیں ملازمت کی پیشکش کریں۔

انہوں نے حاضرین کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی کہ آج تقریباً ہر شعبے میں لوگ مصنوعی ذہانت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ رابطہ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض طالبات نے تقریب میں اظہارِ تشکر کے لیے جو کلمات پیش کیے، ان کی تیاری میں بھی اے آئی کی مدد لی گئی۔

انہوں نے بنگلورو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں روزانہ بڑی تعداد میں ملازمتیں مصنوعی ذہانت کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کو سمجھنے اور ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدیقی نے کہا کہ مسلمان زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو بدلنے اور آگے بڑھنے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس، جغرافیہ، فزکس، تاریخ اور فلسفے سمیت مختلف شعبوں میں مسلمانوں کو جس قدر ترقی کرنی چاہیے تھی، ہم اس سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اپنے رب اور اپنے رسول ﷺ سے مضبوط تعلق قائم رکھتے ہوئے جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں اور مسلم شخصیات کے سائنسی و تکنیکی کردار کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اپنے آباؤ اجداد کے دیے ہوئے علمی و سائنسی ماڈل سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حضرت ٹیپو سلطان، ظہیرالدین محمد بابر اور سابق صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کو پہلی میزائل دینے والے حضرت ٹیپو سلطان، پہلی توپ دینے والے ظہیرالدین محمد بابر، جبکہ آزادی کے بعد جدید انڈیا کو پہلی میزائل دینے والے بھی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام تھے۔ انہوں نے نئی نسل پر زور دیا کہ وہ علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دوبارہ نمایاں مقام حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

تقریب میں ایس ایم سید خلیل الرحمن بیسٹ ٹیچر ایوارڈ انجمن میں گزشتہ 19 برسوں سے تدریسی خدمات انجام دینے والی محترمہ عائشہ مرفوعہ سدی باپا کو پیش کیا گیا، جبکہ عثمان حسن میموریل بیسٹ اسکول ایوارڈ انجمن گرلز ہائی اسکول، نوائط کالونی کے نام رہا۔ دونوں خصوصی ایوارڈز کا اعلان پروگرام کے کنوینر عبدالسلام دامدا ابو نے کیا۔

رابطہ تعلیمی ایوارڈ کی صبح کی نشست میں بھٹکل کے پانچوں مرکزی اداروں کے جنرل سکریٹریز اور دونوں قاضی صاحبان کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا، جبکہ نمازِ عصر کے بعد منعقدہ دوسری نشست میں انہی مرکزی اداروں کے صدور کو اسٹیج کی زینت بنایا گیا۔

رابطہ سوسائٹی کے جنرل سکریٹری عتیق الرحمن منیری نے استقبالیہ کلمات پیش کرنے کے ساتھ رابطہ سوسائٹی کا تعارف اور اس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ پروگرام کی نظامت عوّاب کولا اور حفظ الرحمن ندوی نے انجام دی۔ مولوی عبدالمنعم اکرمی، ابرار الحق اور رابطہ سکریٹری یاسر قاسمجی نے باری باری رابطہ تعلیمی ایوارڈ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے ناموں کا اعلان کیا، جنہیں تقریب میں موجود مہمانانِ خصوصی اور دیگر معزز شخصیات کے ہاتھوں گولڈ میڈل اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب کی صدارت رابطہ سوسائٹی کے صدر عمر فاروق مصباح نے کی۔

ایوارڈ حاصل کرنے والے تمام اسٹوڈینٹس کے نام اور تفصیلات درج ذیل ہیں:

IMG-20260810-WA0046

Share: