ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کا وقت قریب

ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کا وقت قریب

Tue, 22 Dec 2020 18:04:43  SO Admin   S.O. News Service

واشنگٹن،22دسمبر(آئی این ایس انڈیا)ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ایک بڑی کامیابی سے ہم کنار ہونے کے قریب ہیں۔ ترک صدارتی مشیر کے مطابق اس حوالے سے دو طرفہ بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال مارچ تک دونوں ملکوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔ وائس آف امریکا ریڈیو کے مطابق صدارتی مشیر نے اسرائیل سے ترکی کی عسکری خریداری کا بھی ذکر کیا۔

سال 2017ء میں دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی کے سائے میں ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں "دونوں قریبی حلیفوں" کے درمیان تعلقات میں تناؤ آ گیا۔

ترکی کے صدر کے مشیر برائے خارجہ امور مسعود کاسن کا کہنا ہے کہ "اگر اسرائیل ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو ترکی دو قدم آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر ہم نے گرین سگنل دیکھا تو ترکی ایک بار پھر اپنا سفارت خانہ کھول دے گا اور ہم اپنے سفیر کو واپس بھیج دیں گے۔ مارچ میں ممکنہ طور پر سفارتی تعلقات پوری طرح بحال ہو سکتے ہیں ،،، ایسا کیوں نہیں ہو سکتا"۔

کاسن کے مطابق امن اور سیکورٹی کو مضبوط بنانا اسرائیل اور ترکی کے لیے بہت اہم ہے ... "ایک واقعہ پیش آنے کے بعد ہم اسرائیل کے ساتھ مزید کوئی واقعہ نہیں چاہتے"۔

کاسن کا کہنا تھا کہ "تعلقات معمول پر لانے سے اسرائیل کو بہت کچھ حاصل ہو گا۔ ترکی نے اسرائیل سے بہت اسلحہ خریدا ہے۔ ہم ایک بار پھر اس کے انتظامات کر سکتے ہیں۔ ترکی اور اسرائیل کی دفاعی صنعتیں ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں"۔

کاسن کے مطابق اسرائیل تیل اور گیس کی اچھی خاصی دریافت کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی آبادی 80 لاکھ ہے ، وہ یہ تیل اور گیس کہاں فروخت کریں گے؟ ان کے لیے سب سے بڑی منڈی ترکی ہے اور یورپی یونین کی منڈی کے لیے بھی ترکی گزر گاہ ہو گا۔

دوسری جانب ترک اسرائیلی امور کی تجزیہ کار سیلین نیسی نے ترک صدارتی مشیر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ "جمہوریت اور انسانی حقوق کے معاملات کے حوالے سے جو بائیڈن کی انتظامیہ کی حساسیت کے پیش نظر ترکی اسرائیلی تعلقات قلیل مدت کے لیے دشوار وقت کا سامنا کر سکتے ہیں ... امریکی کانگرس میں ترکی کی مخالف رائے چھائی ہوئی ہے۔ شاید ترکی اس امید میں ہو کہ اسرائیل اس مخالفت پر روک لگا سکتا ہے اور ایک بار پھر واشنگٹن کی موافقت حاصل کرنے میں ترکی کا مدد گار ثابت ہو سکتا ہے"۔

وائس آف امریکا ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے نیسی کا کہنا تھا کہ "ایسے وقت میں جب اسرائیل متعدد اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کر رہا ہے ،،، اس فہرست میں ترکی کا اضافہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی مصالحتی تصویر کو بہتر بنائے گا"۔


Share: