ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وینزویلا پر امریکی حملے کے خلاف منگلورو میں احتجاج

وینزویلا پر امریکی حملے کے خلاف منگلورو میں احتجاج

Tue, 06 Jan 2026 14:33:55    S O News
وینزویلا پر امریکی حملے کے خلاف منگلورو میں احتجاج

منگلورو 5/جنوری (ایس او نیوز)وینزویلا جیسے ایک خودمختار ملک پر امریکہ کی جانب سے مبینہ حملے، صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا اور غیر اعلانیہ جنگی پالیسی کے خلاف پیر کے روز منگلورو کے کلاک ٹاور کے قریب ہم خیال تنظیموں کے اتحاد کے زیرِ اہتمام زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے سی پی ایم کے ضلعی سکریٹری منیر کاٹی پلّہ نے الزام عائد کیا کہ امریکہ عالمی تیل منڈی پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے جنوبی امریکہ کے چھوٹے سے ملک وینزویلا پر جارحیت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے صدر کا اغوا ایک انتہائی غیر انسانی عمل ہے اور امریکہ اپنی تشدد پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

کارکن رہنما سوکمار توکّوٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ نے عالمی تیل مارکیٹ پر قبضہ جمانے کے لیے دنیا کے کئی ممالک میں جنگ اور تصادم کی صورتحال پیدا کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے جھوٹے الزامات کے تحت کئی ملکوں کے وسائل لوٹے ہیں اور بھارت کو چاہیے کہ وہ اس امریکی جارحیت کی کھل کر مخالفت کرے۔

اس موقع پر سماجی کارکن واسودیو اُچّھل، دلت لیڈر ایم دیوداس سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ احتجاج میں مختلف تنظیموں کے قائدین اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں یادو شیٹی، بالکرشنا شیٹی، ڈاکٹر کرشنپا کونچاڈی، بی کے امتیاز، جینتی شیٹی، پرمیلا، بھارتی بولار، پرمودینی، یوگیتا سوورنا، ولاسنی، سہاسنی، سنیل کٹھار، جگدیش بزال، پی جی رفیق، بلال بینگرے، کرشنا تنیرُباوی، ناگیش، راکیش کندر، وشوناتھ منجناڈی، رفیق ہریکل، کے ایچ اقبال، تیمّپا کونچاڈی، شریناتھ کُلال، روہیداس بھٹناگر، مظفر احمد، ایم این شیوپا، مائیکل ڈی سوزا، رمیش اُلّال اور رمیش سوورنا مُلکی شامل تھے۔


Share: