ملاپورم، 15 جون (ایس او نیوز / ایجنسی): غزہ میں جاری انسانی بحران اور شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ سے حکومت ہند کی غیرحاضری پر کانگریس نے شدید تنقید کی ہے۔ کانگریس نے اس اقدام کو نہ صرف اخلاقی بزدلی قرار دیا بلکہ سوال اٹھایا کہ آخر گزشتہ چھ ماہ میں ایسی کیا تبدیلی آئی کہ حکومت نے جنگ بندی کی حمایت سے گریز کیا، جو کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا نے اپنے ایکس (سابق ٹویٹر) پوسٹ میں حکومت کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے "شرمناک اور افسوسناک" قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ "یہ باعث شرم ہے کہ ہماری حکومت نے اقوام متحدہ میں غزہ کے شہریوں کے تحفظ، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے والی قرارداد پر ووٹنگ سے دوری اختیار کی۔"
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اب تک 60 ہزار سے زائد افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پوری آبادی کو بھوک اور بدترین حالات کا سامنا ہے، لیکن ہندوستانی حکومت نہ صرف خاموش ہے بلکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اقدامات پر خوشی مناتی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ہندوستان نے ایران پر اسرائیلی حملے اور ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی پر بھی کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا، بلکہ اس پر بھی خوشی ظاہر کی گئی۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ یہ ہندوستان کے آئینی اصولوں اور تحریک آزادی کی اقدار کے خلاف ہے، جو ہمیشہ انسانیت، عدم تشدد اور امن کے حق میں رہی ہے۔ "حقیقی عالمی قیادت ہمت اور انصاف کا تقاضہ کرتی ہے، اور ماضی میں ہندوستان نے یہ ہمت دکھائی ہے۔ لیکن آج ہم خاموش تماشائی بن گئے ہیں۔ ہمیں ایک بار پھر انسانیت کے حق میں آواز بلند کرنی ہوگی۔"
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اسپین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ حماس اور دیگر گروپوں کے زیر حراست تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کے حق میں 149 ووٹ پڑے، 12 ممالک نے اس کے خلاف ووٹ دیا جبکہ ہندوستان سمیت 19 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔
کانگریس نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ اس بدلتے ہوئے رویے کی وجہ کیا ہے اور آیا ہندوستان واقعی اب اخلاقی قیادت کی صلاحیت سے دستبردار ہو چکا ہے؟