پٹنہ، 20/ مئی (ایس او نیوز) بہار پبلک سروس کمیشن (BPSC) کی مجوزہ ٹیچر ریکروٹمنٹ امتحان TRE-4 کے نوٹیفکیشن میں مسلسل تاخیر کے خلاف پٹنہ میں کئی دنوں سے جاری طلبہ احتجاج بدھ کے روز شدت اختیار کرگیا، جب ہزاروں امیدواروں نے سڑکوں پر اتر کر ریلی نکالی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ہنگامہ، دھکم پیل اور متعدد طلبہ کی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ احتجاج گزشتہ ہفتے ہونے والے بڑے مظاہروں کا تسلسل ہے، جب TRE-4 امیدواروں نے پٹنہ کالج سے بی پی ایس سی دفتر تک مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، جس کے بعد تقریباً 5,000 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ متعدد طلبہ رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا اسی کے تسلسل میں آج بدھ کو بھی بڑی تعداد میں امیدوار پٹنہ کالج اور دیگر مقامات پر جمع ہوئے، جہاں سے انہوں نے مارچ نکالنے کی کوشش کی۔ پولیس نے ریلی کو آگے بڑھنے سے روک دیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ جیسا ماحول بھی دیکھا گیا۔
میڈیا اداروں کی شائع کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو احتجاجی طلبہ کو سڑکوں سے ہٹاتے، بعض امیدواروں کو گھسیٹتے اور بسوں میں بٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ بعض رپورٹس میں لاٹھی چارج اور طلبہ کے زخمی ہونے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں، اگرچہ پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے “ضروری کارروائی” قرار دیا ہے۔
بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انتظامیہ نے کوچنگ اداروں اور طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنا شروع کردی ہے تاکہ احتجاج مزید شدت اختیار نہ کرے۔ پٹنہ انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے حساس علاقوں میں اضافی پولیس فورس بھی تعینات کی ہے۔
احتجاج کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ حکومت مسلسل TRE-4 نوٹیفکیشن کو ٹال رہی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوان ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ طلبہ رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت روزگار کے سوال پر سنجیدہ نہیں ہے اور نوجوانوں کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزگار اور بھرتیوں کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں پر طاقت کا استعمال افسوسناک ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے امیدواروں کے حق میں مہم شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ بہار میں سرکاری بھرتیوں، امتحانات اور نتائج میں تاخیر کے معاملات گزشتہ کچھ عرصے سے بڑا سیاسی اور عوامی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ TRE-4 نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر امیدوار مسلسل احتجاج کررہے ہیں اور حکومت سے فوری اعلان کا مطالبہ کررہے ہیں۔