نئی دہلی ، 16/ اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیراعظم نریندر مودی نے ۷۹؍ ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے لگاتار ۱۲؍ویں مرتبہ خطاب کیا۔ا نہوں نے جہاں مستقبل کیلئے اپنی حکومت کے خدوخال کو واضح کرتے ہوئےمعاشی اصلاحات کا اعلان کیا وہیں آر ایس ایس کی تعریف کرکے سنگھ پریوار کو رام کرنے کی کوشش کی اور’’گھس پیٹھیوں‘‘ (دراندازوں) کو انتباہ دیتے ہوئے ’’نیشنل ڈیموگریفک مشن‘‘ کا اعلان کیا۔اس سے یہ واضح ہوگیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا یہ کلیدی موضوع ہوسکتاہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو اس کی صد سالہ سالگرہ پر مبارکباد دی اوراس کی ستائش کی۔ یہ پہلاموقع ہے جب لال قلعہ سے آر ایس ایس کی ستائش کی گئی جس کا ملک کی آزادی کی جدوجہد میں کوئی رول نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’یہ تنظیم سو سال پہلے لاکھوں لوگوں کی کوششوں سے قائم ہوئی تھی۔ اس کی سو سالہ قومی خدمت شاندار ہے۔ ملک کی تعمیر کے عزم کے ساتھ، مادر ہند کی فلاح و بہبود کے مقصد سے، تنظیم کے لوگوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کر دیا ہے۔‘‘ ایسے وقت میں جبکہ موہن بھاگوت اور مودی کے درمیان اختلافات کی باتیں ہوتی رہتی ہیں، آر ایس ایس کی تعریف کو سنگھ پریوار کے لیڈروں کو رام کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہاہے۔
وزیر اعظم نے معاشی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئےکہاکہ اس سال دیوالی پر ملک کے باشندوں کو نئی پیڑھی کی جی ایس ٹی اصلاحات کا تحفہ ملنے والا ہے۔ مودی نے کہا کہ نئی نسل کی اصلاحات کے تحت جی ایس ٹی میں ٹیکس کی شرح کم کی جائے گی۔ اس کا فائدہ ملک کے عام لوگوں کو ملے گا۔ چیزیں سستی ہو جائیں گی۔توقع کے عین مطابق سابقہ حکومتوں کو کوستے ہوئےکہ ’سیمی کنڈکٹرچپ‘ کے حوالے سے سابقہ حکومتوں نے کوئی کام نہیں کیا، انہوں نے خود انحصاری اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پہلی ’’میڈ ان انڈیا‘‘ سیمی کنڈکٹر چپ اس سال کے آخر تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ ٹرمپ یا امریکہ کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ ’’ اپنی طاقت، عزت نفس اور خودداری کو بچانے کیلئے خود انحصاری اور خود کفیل ہونے کی ضرورت ہے۔ جن ممالک نے ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی ہے وہ نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سیمی کنڈکٹر بنانے کا آئیڈیا۵۰-۶۰؍ سال پرانا ہے لیکن فائلیں سابقہ حکومتوں میں اٹکی رہیں، سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ ادھورا رہ گیا۔ موجودہ حکومت نے ان منصوبوں کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیش نظر خود انحصاری کی ضرورت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا انحصار توانائی اور دیگر بہت سی چیزوں پر ہے۔ ہمارے لیے توانائی میں خود کفیل ہونا ضروری ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے دراندازی کی وجہ سے آبادی کے تناسب میں مبینہ تبدیلی کو ملک کے سامنے سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے اس سے مقررہ وقت میں نمٹنے کیلئے’’ نیشنل ڈیموگرافک مشن‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دراندازی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے سوچ سمجھ کر کام کرے گی۔ بی جےپی کے بیانیہ کی توثیق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کی ڈیموگرافی کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔