نئی دہلی ، 19/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)منگل کی صبح عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کے جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا، جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کر دیا گیا۔ اس اضافے کے بعد شہریوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے تازہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مہنگائی کا سلسلہ رکنے والا نہیں، اب عوام کو مزید بوجھ اٹھانے کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ حکومت انتخابات کے بعد عوام کو نظرانداز کر رہی ہے۔‘‘
یہ تبصرہ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’عوام پر ’مہنگائی مَین‘ مودی کا ہنٹر پھر چلا۔ پٹرول-ڈیزل 90 پیسہ مہنگا کر دیا گیا۔ مودی نے گزشتہ 4 دنوں میں 4 روپے بڑھا دیے ہیں۔ اس اضافہ کے ساتھ ملک میں پٹرول 109 روپے اور ڈیزل 96 روپے پہنچ گیا ہے۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ آگے بھی جاری رہنے والا ہے، کیونکہ انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد مودی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ پارٹی لیڈر مرتیونجے تیواری نے ایک میڈیا ادارہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول-ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کا اثر دیگر چیزوں کی قیمتوں پر بھی پڑے گا، یعنی مہنگائی کے اثرات اب واضح طور پر ہر شعبہ میں دکھائی دے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد اب ایندھن کی قیمتیں آگے بھی بڑھیں گی اور عوام پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا۔ مرتیونجے تیواری کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو نے 5 ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران اپنے بیانات میں انتخابی نتائج برآمد ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتیں بڑھنے جو خدشہ ظاہر کیا تھا، وہ درست ثابت ہوا ہے۔ اب عوام بھی سمجھ رہی ہے کہ حکومت اس پر کس طرح ظلم کر رہی ہے۔