ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / "ہندوستانی شہریوں کو بندوق کی نوک پر بنگلہ دیش دھکیلا جا رہا ہے": اویسی کا چونکا دینے والا دعویٰ، بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کی گرفتاری کو قرار دیا غیرقانونی

"ہندوستانی شہریوں کو بندوق کی نوک پر بنگلہ دیش دھکیلا جا رہا ہے": اویسی کا چونکا دینے والا دعویٰ، بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کی گرفتاری کو قرار دیا غیرقانونی

Sat, 26 Jul 2025 19:33:44    S O News

نئی دہلی، 26/ جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اسدالدین اویسی نے ہفتے کے روز ملک بھر میں بنگلہ بولنے والے مسلم شہریوں کی گرفتاری اور ملک بدری پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس انتظامیہ انہیں غیر منصفانہ طور پر "غیر قانونی تارکین وطن" قرار دے رہی ہے۔ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ حکومت "کمزوروں پر طاقت آزماتی ہے اور طاقتوروں کے سامنے جھکتی ہے"۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں اویسی نے کہا کہ جن لوگوں کو غیر قانونی تارکین وطن کہا جا رہا ہے، انہیں بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس پولیس زیادتیوں کو چیلنج کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔

انہوں نے لکھا: "پریشان کن خبریں سامنے آئی ہیں کہ بھارتی شہریوں کو بندوق کی نوک پر بنگلہ دیش دھکیلا جا رہا ہے۔"

اویسی نے الزام عائد کیا، "ملک کے مختلف حصوں میں پولیس بنگلہ بولنے والے مسلم شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے رہی ہے اور ان پر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا رہی ہے۔ یہ حکومت کمزوروں پر طاقتور بنتی ہے اور طاقتوروں کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر وہ لوگ جو 'غیر قانونی تارکین وطن' قرار دیے جا رہے ہیں، انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں: جھونپڑیوں میں رہنے والے، صفائی ملازمین، گھریلو کام کاج کرنے والے، کچرا چننے والے وغیرہ۔ انہیں بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ پولیس کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔"

اسی پوسٹ میں اویسی نے گڑگاؤں کے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کا ایک سرکاری حکم نامہ بھی شیئر کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا کی ملک بدری کے لیے ایک معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار (SOP) نافذ کیا ہے۔ اویسی نے کہا، "صرف کسی مخصوص زبان بولنے کی بنیاد پر پولیس کو کسی کو حراست میں لینے کا اختیار نہیں۔ اس طرح کی وسیع پیمانے پر کی جانے والی گرفتاریاں غیر قانونی ہیں۔"

اویسی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پونے شہر کی پولیس نے بدھوار پیٹھ کے ریڈ لائٹ ایریا سے پانچ بنگلہ دیشی خواتین کو گرفتار کیا تھا۔ ANI کے مطابق، مخصوص اطلاع پر فَرَس خانہ پولیس اسٹیشن اور اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ (AHTU) نے چھاپہ مار کارروائی کی۔

گرفتار خواتین، جن کی عمریں 20 سے 28 سال کے درمیان تھیں، بغیر قانونی دستاویزات ہندوستان میں مقیم تھیں اور جعلی شناختی کارڈ استعمال کر رہی تھیں۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ وہ غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے ہندوستان آئی تھیں، خود کو مغربی بنگال کی رہائشی ظاہر کر کے پونے میں مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث تھیں۔

یہ کارروائی ایک انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کرتی ہے جو ان کے غیر قانونی داخلے اور قیام میں سہولت فراہم کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں امیگریشن ایکٹ، پاسپورٹ ایکٹ اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

دریں اثناء، آسام میں بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت مبینہ طور پر قبائلی زمینوں پر "غیر قانونی قبضے" کے خلاف اپنی بے دخلی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ ریاستی وزیر اتل بورا نے اس اقدام کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ "مشکوک افراد" سے قبائلی علاقوں کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔

منگل کو آسام بی جے پی نے ایک بار پھر کہا کہ جب تک تمام غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ زمینوں کو خالی نہیں کروا لیا جاتا، یہ بے دخلی مہم جاری رہے گی، جیسا کہ ANI نے رپورٹ کیا۔


Share: