نئی دہلی، 27 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی)ہندوستانی شہریوں میں بیرون ملک جا بسنے اور ہندوستانی شہریت ترک کرنے کا رجحان مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، سال 2019ء سے لے کر 2024ء تک مجموعی طور پر 10 لاکھ 40 ہزار 860 افراد نے اپنی مرضی سے ہندوستانی پاسپورٹ ترک کر دیا ہے۔ ان افراد نے غیر ملکی شہریت حاصل کرکے دیگر ممالک میں سکونت اختیار کی۔
جاری مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزارت خارجہ نے انکشاف کیا کہ 2019ء میں 1,44,017، 2020ء میں 85,256، 2021ء میں 1,63,370، 2022ء میں 2,25,620، 2023ء میں 2,16,219 اور 2024ء میں اب تک 2,06,378 افراد نے ہندوستانی شہریت ترک کی ہے۔
قبل ازیں وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2011ء سے جون 2023ء تک مجموعی طور پر 10 لاکھ 75 ہزار ہندوستانی شہریوں نے شہریت چھوڑی تھی۔ یہ افراد دنیا کے 135 ممالک میں جا بسے، جن میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، برازیل، آئس لینڈ، ویٹیکن اور اینٹیگوا و باربوڈا جیسے ممالک شامل ہیں۔ 2022ء سے ہر سال دو لاکھ سے زیادہ افراد ہندوستانی شہریت ترک کر رہے ہیں۔
وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ زیادہ تر افراد ذاتی سہولت، بہتر ملازمت یا رہائش کی خاطر غیر ملکی شہریت اختیار کرتے ہیں۔ اس وقت تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ہندوستانی دنیا کے مختلف حصوں میں مقیم ہیں۔
ہندوستان میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں ہے۔ شہریت ترک کرنے کے لیے آن لائن پورٹل indiancitizenshiponline.nic.in کے ذریعے درخواست دی جاتی ہے، جس کی تصدیق متعلقہ ضلعی کلکٹر یا قونصلر افسر کرتے ہیں۔ اس کے بعد متعلقہ حکومتی ادارے 30 دن کے اندر فیصلہ صادر کرتے ہیں۔
ہینلی پرائیویٹ ویلتھ مائیگریشن رپورٹ 2025ء کے مطابق، اس سال تقریباً 3,500 کروڑ پتی ہندوستانی بیرون ملک منتقل ہوں گے۔ پچھلے دو برسوں کے مقابلے میں یہ تعداد کچھ کم ضرور ہے—2023ء میں 5,100 اور 2024ء میں 4,300 افراد نے بیرون ملک نقل مکانی کی—لیکن رجحان اب بھی برقرار ہے کہ خوشحال ہندوستانی شہری بیرونی ملکوں میں سکونت اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔