بھٹکل، 8/ فروری (ایس او نیوز): اُترکنڑا کی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بھٹکل میں قومی شاہراہ کی توسیع اور فور لین تعمیراتی کام کو آئندہ دو ماہ میں مکمل کرنے کی یقین دہانی کے باوجود دو ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن عملی طور پر کام میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ رنگین کٹے سمیت بعض مقامات پر محض درختوں کی کٹائی کے سوا شاہراہ پر کوئی نمایاں سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے، جس کے باعث عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
کائکنی بستی اور موڈ بھٹکل میں انتہائی ضروری انڈر پاس منصوبوں کا آغاز پہلے ہی کیا جا چکا تھا، مگر توقع کے مطابق ان منصوبوں میں بھی اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے علاوہ بھٹکل شہری حدود میں سڑک کی تعمیر مسلسل تاخیر کا شکار بنی ہوئی ہے۔ تینگین گنڈی کراس سے موڈ بھٹکل تک کام میں کسی بڑی رکاوٹ یا تنازعہ کے نہ ہونے کے باوجود شاہراہ کی حالت جوں کی توں برقرار ہے۔ کئی مقامات پر زمین کھود کر کام ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ ایک آدھ جے سی بی یا ہٹاچی مشین کبھی کبھار نظر آتی ہے اور پھر غائب ہو جاتی ہے۔
قومی شاہراہ کی توسیع کے نام پر بنائے گئے عارضی راستے اب مستقل صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کے باعث موجودہ نیشنل ہائی وے کے سڑک کنارے انتہائی خطرناک بن گئے ہیں۔ شدید اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران شاہراہ پر حالات مزید بدتر ہو گئے ہیں۔ مختلف حادثات میں سات افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ روزانہ لوگوں کے گر کر زخمی ہونے اور شدید زخمیوں کو اُڈپی اور مینگلورو کے اسپتالوں میں داخل کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے باوجود ادھورے شاہراہ منصوبے کو جلد مکمل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کہیں نظر نہیں آ رہیں۔

فروری کا پہلا ہفتہ ختم ہو چکا ہے اور مزید تین ماہ بعد مانسون کا آغاز ہو جائے گا، لیکن شاہراہ کے دونوں اطراف مناسب نکاسیٔ آب (ڈرینج) کے انتظامات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ خاص طور پر بھٹکل شہری حدود میں شاہراہ کی توسیع کس انداز میں کی جائے گی، اس بارے میں عوام کو اب تک کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ بھٹکل شمس الدین سرکل اور اس کے بالمقابل واقع سرکاری بس اسٹینڈ سے لے کر کوالٹی ہوٹل تک کا علاقہ، جہاں ہمہ وقت ٹریفک کا شدید اژدحام رہتا ہے اور پیدل چلنے والوں کو سڑک پار کرنے میں بھی شدید دشواری پیش آتی ہے، وہاں بھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہاں سروس روڈ منصوبے میں شامل ہے یا نہیں۔ اگر بغیر سروس روڈ کے کام آگے بڑھایا گیا تو ایسے ہائی وے پر عوام کی سلامتی کس حد تک یقینی ہوگی، یہ ایک سنگین سوال بن کر سامنے آ رہا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ قومی شاہراہ کو فور لین میں تبدیل کرنے کا کام شروع ہوئے تقریباً 13 سال کا عرصہ گزر چکا ہے، جبکہ نئی شاہراہ کی باضابطہ افتتاحی تقریب کو بھی تین سال مکمل ہونے کو ہیں، مگر تعمیراتی کام اب تک سست روی کا شکار ہے۔ قومی شاہراہ اتھارٹی کی جانب سے طے کردہ نئی مدت میں بھی کام مکمل ہو پائے گا یا نہیں، یہ سوال بدستور جواب طلب بنا ہوا ہے۔

قومی شاہراہ کا کام آج نہیں تو کل مکمل ہونے کے وعدوں کے ساتھ دن، مہینے اور سال گزرتے جا رہے ہیں۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیے جا چکے ہیں، متعلقہ حکام کو میمورنڈم اور درخواستیں پیش کی جا چکی ہیں، جبکہ ہائی وے بلاک کرنے اور شیرور ٹول گیٹ بند کرنے جیسے احتجاجی اقدامات پر بھی بارہا بات کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں افسران، اراکینِ اسمبلی، ارکانِ پارلیمنٹ اور وزراء کی متعدد میٹنگیں بھی ہو چکی ہیں، لیکن زمینی سطح پر اس کا کوئی مؤثر نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
عوام کا کہنا ہے کہ اگر ضلع انتظامیہ نے اب بھی قومی شاہراہ اتھارٹی پر دباؤ ڈال کر کام کو پٹری پر نہ لایا تو آنے والے دنوں میں عوام کی زندگی مزید مشکلات اور خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔
Click here for report in English