ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / نئے بل کے ذریعے علاقائی پارٹیوں کو کمزور کرنے کی کوشش: اکھلیش یادو

نئے بل کے ذریعے علاقائی پارٹیوں کو کمزور کرنے کی کوشش: اکھلیش یادو

Mon, 25 Aug 2025 18:49:47    S O News

لکھنؤ، 25 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں آئین (ایک سو تیسواں ترمیمی) بل 2025 پیش کرکے علاقائی پارٹیوں کو کمزور کرنے کی سازش کی ہے۔ یہ بل بدھ کے روز (20 اگست) کو ایوان میں پیش کیا گیا۔

اکھلیش یادو نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی اس بل کی سخت مخالفت کرتی ہے اور جے پی سی (مشترکہ پارلیمانی کمیٹی) کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس بل میں یہ تجویز ہے کہ اگر وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ یا دیگر وزراء کو پانچ سال یا اس سے زیادہ سزا والی دفعات کے تحت گرفتار کر کے مسلسل تیس دن تک حراست میں رکھا جائے تو وہ خودبخود اپنے عہدے سے برطرف ہوجائیں گے۔

اکھلیش نے کہا: ’’یہ بل علاقائی پارٹیوں کو توڑنے اور کمزور کرنے کی سازش کے تحت لایا گیا ہے۔ حکومت جھوٹے اور فرضی مقدمات درج کر کے قائدین کو جیل بھیجنا چاہتی ہے۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے کئی رہنما جیسے محمد اعظم خان، رکن اسمبلی راماکانت یادو اور عرفان سولنکی کو جھوٹے کیسوں میں جیل بھیجا گیا۔ کئی دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کو اس سب کا پہلے سے علم تھا، اسی لئے انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنے خلاف تمام مقدمات واپس لے لئے اور اپنے نائب وزیر اعلیٰ کے مقدمات بھی ختم کروا دیے۔ اکھلیش کے مطابق حکومت نے یہ بل ووٹ چوری کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے لایا ہے۔

چیل اسمبلی حلقہ کی رکن پوجا پال کے الزامات پر اکھلیش کا کہنا تھا: ’’میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ جو شخص وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر رہا ہے وہ کسی دوسری پارٹی کے لیڈر سے کیسے خطرہ محسوس کر سکتا ہے؟ سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر نے اس معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ کو خط لکھا ہے۔ ہمیں ریاستی حکومت پر بھروسہ نہیں ہے، اس لئے مرکزی حکومت کو اس کی تحقیقات کرنی چاہئے اور حقیقت سامنے لانی چاہئے۔‘‘

خیال رہے کہ پوجا پال کو حال ہی میں سماج وادی پارٹی سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے اسمبلی کے مانسون اجلاس میں 24 گھنٹے کی خصوصی بحث کے دوران وزیر اعلیٰ کی تعریف کی تھی۔

اکھلیش یادو نے بتایا کہ پارٹی کے حلف نامے کے مطابق 2022 کے اسمبلی انتخابات میں تقریباً 18 ہزار ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے غلطی سے خارج کیے گئے۔ ’’ان میں سے صرف محدود تعداد کی تحقیقات ہوئی ہیں، جبکہ باقی کیسز اب بھی بغیر کسی کارروائی کے التوا میں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس اہم معاملے سے خود کو الگ کر لیا ہے اور ضلعی مجسٹریٹوں پر ذمہ داری ڈال دی ہے،‘‘ انہوں نے نشاندہی کی۔


Share: