ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیا منگلورو پولیس کمشنر اور دکشن کنڑا ایس پی کا ہوگا تبادلہ ؟ کیا حکومت پر دباو بنا رہا ہے مافیا ؟

کیا منگلورو پولیس کمشنر اور دکشن کنڑا ایس پی کا ہوگا تبادلہ ؟ کیا حکومت پر دباو بنا رہا ہے مافیا ؟

Mon, 05 Jan 2026 19:20:51    S O News

منگلورو 5 / جنوری (ایس او نیوز) دکشن کنڑا میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے باوجود معتبر ذرائع سے ملی خبریں اشارہ کر رہی ہیں کہ مبینہ طور پر سٹے بازی سنڈیکیٹس، مافیا نیٹ ورکس اور سیاسی لیڈروں کے ایک طبقے کے دباؤ کی وجہ سے منگلورو سٹی پولس کمشنر سدھیر کمار ریڈی اور دکشن کنڑا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس  ڈاکٹر ارون کا تبادلہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔

خیال رہے کہ پچھلے چھ مہینوں سے دکشن کنڑا ضلع اور منگلورو کمشنریٹ کی حدود میں فسادات یا فرقہ وارانہ بدامنی کا کوئی واقعہ نہیں دیکھا گیا ہے ۔ ریت کی کان کنی، سرخ پتھروں کی نقل و حمل، مٹکا اور جوئے کے اڈوں جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کو مؤثر طریقے سے روکا گیا ہے ۔ اسکل گیم سینٹرز اور مساج پارلرز کو بند کر دیا گیا ہے ۔  جبکہ خفیہ طریقے سے کام کر رہے منشیات اور گانجہ کے نیٹ ورک  منظم طریقے سے بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ مرغوں کی لڑائی پر جوئے بازی (کاک فائٹنگ)رک گئی ہے اور سٹے بازی کے کام چلانے والوں نے مبینہ طور پر علاقہ خالی کر دیا ہے ۔

یہ دکشن کنڑا کی موجودہ حالت ہے ۔ ایک ایسا ضلع جو کبھی غیر قانونی سرگرمیوں سے بہت زیادہ متاثر ہوگیا تھا ۔ صرف چھ ماہ کے عرصے میں سدھیر کمار ریڈی اور ڈاکٹر ارون جیسے سینئر افسران  نے بڑے پیمانے پر ضلع کو بدامنی اور غیر قانونی اور غیر سماجی سرگرمیوں سے پاک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔

اس کے باوجود  اب کہا جاتا ہے کہ مافیا عناصر اور بعض کاروباری گروہ بے چین ہوگئے ہیں جن کی روزی روٹی غیر قانونی سرگرمیوں پر منحصر تھی ۔ لہٰذا مبینہ طور پر دونوں افسران کے تبادلے کے لیے زبردست کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

یہ ایک سچائی ہے کہ ریت کی غیر قانونی کانکنی، لال پتھروں کی کھدائی، اسکِل گیمس اور جوئے کے اڈوں کو طویل عرصے سے دکشن کنڑا کے امن و امان میں خلل ڈالنے کی اہم وجوہات کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے ۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے پولیس نے اپنے انداز میں فیصلہ کن کارروائیاں شروع کیں اور ان سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے کمر کس لی ۔ مبینہ طور پر پولیس کی طرف سے کی جارہی کریک ڈاؤن کارروائیوں کا براہ راست اثر بعض مقامی عوامی نمائندوں پر بھی پڑا ہے، جس سے وہ ناراض ہو گئے ہیں ۔

ضلع میں اعلیٰ افسران کے طور پر سدھیر کمار ریڈی اور ڈاکٹر ارون کی آمد کے بعد سے غیر قانونی سرگرمیاں چلانے والوں کے لئے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ اس لئے ان اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے مبینہ طور پر مختلف حکمت عملیوں سے کام لیا جا رہا ہے ۔

اس سے قبل  سری کرشنا جنم اشٹمی اور گنیش چترتھی کے دوران لاؤڈ اسپیکر سے متعلق مسائل پر افسران کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے ۔ اب مبینہ طور پر مذہبی جذبات، رسومات اور روایات کے نام پر افسران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ جہاں ایک طرف حکمراں پارٹی کے کچھ  لیڈر ان افسران کے تبادلوں کے لئے زور دے رہے ہیں، وہیں ضلع انچارج وزراء، کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر لیڈران  اور بنگلورو میں سرکردہ قائدین موجودہ حالات میں افسران کا تبادلہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں ۔

ریاست کے محکمہ داخلہ کی مغربی رینج کو جس میں منگلورو پولیس کمشنریٹ بھی شامل ہے، ایک حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے ۔  لیکن اس خطے میں اس وقت امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس کے پیش نظر وزیر اعلیٰ، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر سینئر لیڈروں اور عہدیداروں نے فی الحال کسی قسم کے تبادلوں کے بارے میں عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

یاد رہے کہ عام طور پر دسمبر کے  بڑی تعداد میں دوران آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کا تبادلہ کیا جاتا ہے ۔ اس لئے مافیا گروپوں کو مبینہ طور پر امید تھی کہ دسمبر میں ہونے والے تبادلوں کے موسم میں منگلورو کے پولیس کمشنر اور دکشن  کنڑا ایس پی کا بھی تبادلہ یا پروموشن ہو سکتا ہے، لیکن دسمبر کی فہرست میں ان کے نام   شامل نہ ہونے سے ان گروپوں کو مایوسی ہوئی ہے ۔  


Share: