احمد آباد، 29/ جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) ایئر انڈیا کی پرواز IC171 کے حادثے میں آٹھ ماہ کا دھیانش سب سے کم عمر زندہ بچ جانے والا بچہ ہے، جسے اس کی ماں منیشا کچھ یڈیا نے اپنے جسم سے بچا لیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ بی جے میڈیکل کالج کے رہائشی کمپلیکس سے ٹکرا گیا اور عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔
اس حادثے میں منیشا اور دھیانش دونوں جھلس گئے تھے۔ علاج کے دوران منیشا نے اپنے بیٹے کے زخموں پر گرافٹنگ کے لیے اپنی ہی جلد عطیہ کی۔ اب ماں اور بیٹا دونوں اسپتال سے صحت یاب ہو کر ڈسچارج ہو چکے ہیں۔
حادثے کے وقت منیشا کا واحد خیال اپنے بچے کو بچانا تھا۔ آگ اور دھوئیں کے باوجود اُس نے اپنے جسم سے دھیانش کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا۔ یہ وہی حادثہ ہے جس میں 260 افراد کی جان گئی تھی۔
دونوں کو شدید زخمی حالت میں کے ڈی اسپتال منتقل کیا گیا۔ دھیانش کے چہرے، سینے، پیٹ اور بازو پر 36 فیصد جلنے کے زخم آئے، جبکہ منیشا کے چہرے اور ہاتھوں پر 25 فیصد جھلسنے کے نشانات تھے۔ دھیانش کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا، خون اور پانی کی مقدار بحال کی گئی، اور انتہائی نگہداشت فراہم کی گئی۔ ڈاکٹرز کے مطابق اس کی کم عمر کی وجہ سے علاج کافی پیچیدہ تھا۔
جب گرافٹنگ کی ضرورت پیش آئی، تو منیشا نے ایک بار پھر ماں کی ممتا کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جلد عطیہ کر دی۔ کے ڈی اسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر آدیت دیسائی نے اس واقعے کو نہایت جذباتی اور متاثر کن قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال نے IC171 حادثے سے متاثرہ چھ مریضوں کا مفت علاج کیا۔
پلاسٹک سرجن ڈاکٹر رتوِج پریکھ کے مطابق بچے کی جلد کے علاج میں ماں اور بچے دونوں کی جلد استعمال کی گئی، اور عمر کے لحاظ سے انفیکشن سے بچانے اور صحت مند نشوونما پر خاص توجہ دی گئی۔
منیشا کے شوہر کپِل کچھیڈیا، جو بی جے میڈیکل کالج میں یورولوجی کے طالب علم ہیں، حادثے کے وقت ڈیوٹی پر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ منیشا نے سب سے پہلے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر سنیہل پٹیل کے مطابق دھیانش کے پھیپھڑوں میں چوٹ کی وجہ سے ایک طرف خون بھر گیا تھا، جس کے باعث وینٹی لیٹر اور انٹرکوسٹل ڈرینج ٹیوب لگائی گئی۔ خوش قسمتی سے علاج کے بعد اس کے پھیپھڑوں کا پھیلاؤ بہتر ہو گیا۔
پانچ ہفتے کے طویل علاج کے بعد ماں اور بیٹے کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ منیشا کی ممتا نے نہ صرف آگ کو بلکہ قسمت کو بھی چیلنج کر کے اپنے بیٹے کی جان بچائی۔