ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کیرالہ میں 26 مئی تک مانسون کی دستک کا امکان، ملک کے مختلف حصوں میں موسمی شدت کے خدشات

کیرالہ میں 26 مئی تک مانسون کی دستک کا امکان، ملک کے مختلف حصوں میں موسمی شدت کے خدشات

Sun, 17 May 2026 11:56:15    S O News

نئی دہلی  ، 17/ مئی (ایس او نیوز نیوز /ایجنسی)آئندہ مانسون   میں ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں سمیت تقریباً نصف  ہندوستان میں بارشوں کی کمی کے باعث شدید خشک سالی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جون سے ستمبر کے دوران مجموعی مانسون  بارشیں معمول سے کم رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا مضبوط ال نینو اس صورتحال کی بنیادی وجہ بن سکتا ہے، جو بارشوں کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں میں غیر معمولی اور شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا بھی امکان ہے۔

ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق ال نینو تیزی سے اپنا دائرہ بڑھا رپا ہے۔ ہندوستان کے لیے ال نینو ہمیشہ سے ہی خراب رہا ہے۔ اس بار مضبوط ال نینو تیار ہو رہا ہے، جس کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ مضبوط ال نینو جنوب مغربی مانسون کی ہواؤں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کم ہوتی ہے اور خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ اس بار شمال اور وسطی ہندوستان میں کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف تمل ناڈو اور آندھرا پردیش جیسی ساحلی ریاستوں کو تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق جنوب مغربی مانسون اس بار معمول کی تاریخ سے پہلے یعنی 26 مئی کے آس پاس کیرالہ کے ساحل پردستک دے سکتا ہے۔ ہفتے کے روز یہ جنوبی خلیج بنگال، بحیرہ انڈمان اور جزائر انڈمان۔نکوبار کے کچھ حصوں میں مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے آگے بڑھنے لیے حالات سازگار ہیں۔

طاقتور ال نینو کا شمالی اور وسطی ہندوستان پر سب سے زیادہ اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مغربی ہندوستان کے کچھ حصے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، خاص طور پر زراعت ریاستیں جیسے پنجاب، ہریانہ، مغربی اتر پردیش اور راجستھان۔ دہلی-این سی آر کو گرمی اور خشک سالی کے دوہرے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مانسون کی کم بارشیں بڑی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے خوراک کی قیمتوں، بجلی کی فراہمی اور دیہی آمدنی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ہندوستان کی سالانہ بارش کا تقریباً 70 فیصد مانسون سے آتا ہے اور تقریباً نصف آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، اس لیے کم بارش والا سال بھی وسیع معاشی اثر ڈال سکتا ہے۔

اس خوفناک امکان کے درمیان امید کی کرن انڈین آپریشن ڈپول (آئی او ڈی)  کی شکل میں نظر آرہی ہے۔ موسمیاتی ماڈل کے مطابق مانسون سیزن کے آخری مہینوں میں آئی او ڈی مثبت ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ال نینو کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔ مانسون کی ہوائیں کچھ زور پکڑ سکتی ہیں، جو ممکنہ طور پر کچھ علاقوں میں بارش کی واپسی کا باعث بن سکتی ہیں۔

آئی ایم ڈی کی پیشن گوئی کے مطابق اس سال مانسون کی بارش طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے صرف 92 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ ایل پی اے کی یہ سطح معمول سے کم بارش کے زمرے میں آتی ہے۔ 1971  سے 2020 تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہندوستان میں اوسط بارش 870 ملی میٹر ہونی چاہیے لیکن اس بار اس سے کم بارش ہونے کا امکان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس سال خشک سالی کے حالات پیدا ہونے کا اندیشہ 35 فیصد ہے جو عام سالوں کے امکان سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔


Share: