ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مودی سرکار کے تیور میں اچانک تبدیلی؛ عوام کو کفایت شعاری، ورک فروم ہوم اور غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ

مودی سرکار کے تیور میں اچانک تبدیلی؛ عوام کو کفایت شعاری، ورک فروم ہوم اور غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ

Mon, 11 May 2026 22:53:28    S O News
مودی سرکار کے تیور میں اچانک تبدیلی؛ عوام کو کفایت شعاری، ورک فروم ہوم اور غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ

حیدرآباد 11/مئی (ایس او نیوز):چار ریاستوں میں لوک سبھا انتخابات کا مرحلہ اختتام تک پہنچتے ہی ملک میں ترقی، عالمی قیادت اور تیز رفتار معیشت کے دعوے کرنے والی مودی سرکار کے تیور اچانک بدل گئے ہیں اور پہلی بار وزیر اعظم نریندرا مودی نے مغربی ایشیا میں جاری بحران کے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر ملک میں خود انحصاری (Self-Reliance) کو فروغ دینے اور پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری بیرونِ ملک سفر سے گریز کریں، “ورک فروم ہوم” اور ورچوئل میٹنگس کے طریقوں کو دوبارہ اختیار کریں، مقامی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دیں اور ایک سال تک سونے کی خریداری کو مؤخر کریں تاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھے جا سکیں۔

اتوار کو حیدرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور ایسے وقت میں ہر شہری کو ملک کے مفاد کو سب سے اوپر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے کے لیے عوام زیادہ سے زیادہ میٹرو، ریل اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں، کار پولنگ کو فروغ دیں اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ کریں۔

مودی نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ملک نے “ورک فروم ہوم”، ورچوئل میٹنگس اور ویڈیو کانفرنسنگ جیسے طریقے کامیابی کے ساتھ اپنائے تھے، اس لیے موجودہ حالات میں ان طریقوں کو دوبارہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ درآمدی اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

وزیر اعظم نے متوسط طبقے میں بڑھتے ہوئے بیرونِ ملک شادیوں، تعطیلات اور سفر کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران کے دوران کم از کم ایک سال تک غیر ضروری غیر ملکی سفر سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تہواروں کے موقع پر سونے کی خریداری سے بھی احتیاط برتنے کی اپیل کی اور کہا کہ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے عوام سے کھانے کے تیل کے استعمال میں بھی 10 فیصد کمی لانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم نہ صرف ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ خاندانوں کی صحت کے لیے بھی بہتر ثابت ہوگا۔

“ووکل فور لوکل” مہم کو دہراتے ہوئے مودی نے کہا کہ لوگ اپنی روزمرہ استعمال کی اشیاء کی فہرست بنائیں اور دیکھیں کہ ان میں کون سی مصنوعات بیرونی ممالک سے وابستہ ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ فوری طور پر غیر ملکی اشیاء کو ترک کر دیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ملک کو جلد از جلد خود کفیل بنایا جائے۔

وزیر اعظم کی اس تقریر کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو کفایت شعاری اور قربانی کا مشورہ دے رہی ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آرہی۔

راہول گاندھی سمیت کانگریس کے کئی رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ اگر معیشت مضبوط ہے تو عوام سے بیرونِ ملک سفر، سونے کی خریداری اور دیگر اخراجات محدود کرنے کی اپیل کیوں کی جا رہی ہے۔ راہول گاندھی نے مودی کی اپیلوں کو “ناکامی کا ثبوت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے قربانی مانگنا حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہلے تیل کی بڑھتی قیمتوں، روپے کی کمزوری اور روزمرہ اشیاء کی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

کانگریس کے رہنما کرتی چدمبرم نے سوال کیا کہ آخر ایسی “سنگین ہدایات” جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور حکومت کو پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

اسی طرح کے سی وینوگوپال اور ساکیت گھوکھلے سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ حکومت عالمی بحران کے اثرات کا بوجھ عام شہریوں پر ڈال رہی ہے، جبکہ خود حکمران طبقہ اپنی شاہانہ طرزِ زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہا۔

بعض اپوزیشن رہنماؤں نے مودی کے “ورک فروم ہوم” مشورے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑی آبادی غیر منظم شعبے، فیکٹریوں، چھوٹے کاروباروں اور روزانہ مزدوری پر انحصار کرتی ہے، جہاں ورک فروم ہوم عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی اپیلیں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔


Share: