نئی دہلی، 22 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) ہندوستانی فضائیہ کے مشہور جنگی طیارے MiG-21 کو 62 سال بعد ستمبر میں باضابطہ طور پر ریٹائر کیا جا رہا ہے۔ اس تاریخی طیارے کو 19 ستمبر کو چندی گڑھ کے ایئربیس پر 23 اسکواڈرن (پینتھرز) کی جانب سے پروقار انداز میں الوداع کہا جائے گا۔
MiG-21 کو 1963 میں ہندوستانی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا، اور اس نے 1965 اور 1971 کی ہند-پاک جنگوں، 1999 کی کارگل جنگ، 2019 کے بالا کوٹ حملے اور آپریشن سندور میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اگرچہ یہ طیارہ کئی معرکوں میں قابل ذکر خدمات انجام دے چکا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد — 400 سے زائد کریش اور کئی پائلٹوں کی ہلاکت — نے اسے متنازعہ ’اڑتا تابوت‘ (Flying Coffin) کا لقب دلوایا۔
فی الحال ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا MiG-21 آپریٹر ہے۔ 1960 کی دہائی سے متعدد تکنیکی اپ گریڈ کے باوجود یہ طیارے اپنی متعینہ عمر سے کہیں آگے تک خدمات انجام دیتے رہے۔ اب آخری ماڈل MiG-21 بائسن (Bison) کو بھی ستمبر میں سروس سے ہٹا دیا جائے گا۔
یہ طیارہ سوویت یونین کے میکویان-گوریوچ ڈیزائن بیورو نے تیار کیا تھا، اور دنیا کے 60 سے زائد ممالک اسے استعمال کر چکے ہیں۔
MiG-21 کی ریٹائرمنٹ بار بار اس وجہ سے مؤخر کی گئی تھی کیونکہ دیسی ہلکے لڑاکا طیارے LCA تیجس Mk1A کی تیاری اور فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ فی الحال ہندوستانی فضائیہ کے پاس MiG-21 بائسن کے دو اسکواڈرنز میں 31 طیارے موجود ہیں۔
MiG-21 کی واپسی کے بعد فضائیہ کی لڑاکا طاقت صرف 29 اسکواڈرنز رہ جائے گی، جو 1960 کی دہائی کے بعد سے سب سے کم سطح پر ہے — یہاں تک کہ یہ تعداد 1965 کی جنگ کے وقت سے بھی کم ہے، جبکہ منظور شدہ اسکواڈرنز کی تعداد 42 ہونی چاہیے۔