بھٹکل، 20 مئی (ایس او نیوز): ہندوستان بھر میں آن لائن دواؤں کی فروخت، ای-فارمیسی پلیٹ فارمز اور “ڈور اسٹیپ میڈیسن ڈلیوری” کے خلاف آج بدھ 20 مئی کو بڑے پیمانے پر فارمیسی دکانیں بند رکھ کر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ یہ احتجاج بنیادی طور پر آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس (AIOCD) کی کال پر منعقد کیا گیا، جس میں ملک بھر کے لاکھوں میڈیکل اسٹور مالکان، فارماسسٹ تنظیموں اور فارمیسی ڈسٹری بیوٹرز نے حصہ لیا۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کی سب سے بڑی وجہ آن لائن دواؤں کی فروخت، بھاری ڈسکاؤنٹ، بغیر نسخہ ادویات کی سپلائی اور حکومت کی بعض نوٹیفکیشنز ہیں، جنہیں فارمیسی تنظیمیں روایتی میڈیکل اسٹورز کے لئے خطرہ قرار دے رہی ہیں۔ احتجاجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ای-فارمیسی پلیٹ فارمز ڈرگ اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ادویات فروخت کررہے ہیں، جس سے جعلی دواؤں، اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال اور عوامی صحت کو خطرات لاحق ہورہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 15 لاکھ کیمسٹس اور ڈرگسٹس اس احتجاج میں شامل ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق کرناٹک میں سب سے بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا۔ ریاستی تنظیم کرناٹک کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن (KCDA) کے مطابق تقریباً 26 ہزار میڈیکل شاپس بند رہیں جبکہ صرف بنگلورو میں قریب 6500 فارمیسیز نے احتجاج میں حصہ لیا۔ کئی شہروں میں فارماسسٹ سیاہ پٹیاں باندھ کر سڑکوں پر اتر آئے اور احتجاجی ریلیاں نکالیں۔
ریاست کے مختلف اضلاع میں میڈیکل اسٹور مالکان اور فارماسسٹ تنظیموں نے آن لائن دواؤں کی فروخت کے خلاف شدید ناراضگی ظاہر کی۔ ساحلی کرناٹک کے مینگلور سمیت ضلع جنوبی کینرا، اڈپی، بھٹکل اور کاروار سمیت ہبلی، دھارواڑ، بیلگاوی، کلبرگی، شموگہ، بلاری، داونگیرے اور میسور میں بھی احتجاجی سرگرمیاں رپورٹ ہوئیں۔ کئی علاقوں میں میڈیکل شاپس مکمل طور پر بند رہیں جبکہ ایمرجنسی خدمات، سرکاری اسپتالوں سے وابستہ فارمیسیز اور 24 گھنٹے کھلی رہنے والی بعض میڈیکل شاپس کو عوامی سہولت کے پیش نظر مستثنیٰ رکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق بعض شہروں میں فارماسسٹ تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکال کر مرکزی حکومت اور ای-فارمیسی کمپنیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ آن لائن فارمیسی کمپنیاں بغیر مناسب نسخوں کے ادویات فروخت کررہی ہیں اور بھاری ڈسکاؤنٹ کے ذریعے چھوٹے میڈیکل اسٹورز کے کاروبار کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ میسور سمیت کئی علاقوں میں فارماسسٹ تنظیموں نے الزام لگایا کہ بڑی کارپوریٹ ای-فارمیسی کمپنیاں غیر منصفانہ مسابقت پیدا کررہی ہیں، جس سے روایتی فارمیسی کاروبار شدید متاثر ہورہا ہے۔
ریاست بھر کی فارماسسٹ تنظیموں نے آن لائن دواؤں کی فروخت کو “عوامی صحت کے لئے خطرہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر ڈاکٹر کے نسخے ادویات کی سپلائی اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کو بڑھا رہی ہے۔
مدھیہ پردیش سے ملی اطلاعات کے مطابق وہاں 41 ہزار سے زیادہ کیمسٹ دکانیں بند رہیں جبکہ صرف بھوپال میں تقریباً 6000 میڈیکل شاپس نے احتجاج میں حصہ لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی مریضوں کو دوائیں حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
مہاراشٹر کے ممبئی، تھانے، پونے اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج اور میڈیکل شاپ بند دیکھی گئی۔ مہاراشٹر FDA نے اسپتالوں سے وابستہ فارمیسیز اور 24 گھنٹے کھلی رہنے والی دکانوں کو خدمات جاری رکھنے کی ہدایت دی تاکہ مریضوں کو پریشانی نہ ہو۔
تمل ناڈو سے موصول اطلاعات کے مطابق ریاست میں تقریباً 40 ہزار فارمیسیز بند رہیں جبکہ مدورئی میں 2500 سے زائد میڈیکل شاپس احتجاج میں شامل ہوئیں۔ اسی طرح آندھرا پردیش اور گجرات کے مختلف شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے، جہاں فارمیسی تنظیموں نے آن لائن فارمیسی کو “چھوٹے کاروبار کے لئے خطرہ” قرار دیا اور ای-فارمیسی کمپنیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
اڈیشہ حکومت نے احتجاج کے پیش نظر متبادل ادویاتی سپلائی کے انتظامات کئے اور ڈرگ کنٹرول حکام کو ہدایت دی کہ عوام کو ضروری دوائیں مسلسل دستیاب رہیں۔
فارمیسی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن دواؤں کی فروخت پر سخت ضابطے نافذ کئے جائیں، کووِڈ دور میں دی گئی رعایتیں اور متعلقہ نوٹیفکیشنز واپس لئے جائیں، بغیر نسخہ ادویات کی آن لائن فروخت پر پابندی عائد کی جائے، “ڈیپ ڈسکاؤنٹنگ” روکنے کے لئے قوانین بنائے جائیں اور چھوٹے میڈیکل اسٹورز کے کاروبار کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ادھر احتجاج کے پیش نظر مرکزی حکومت اور CDSCO نے تمام ریاستی ڈرگ کنٹرولرز کو ہدایت دی ہے کہ ضروری ادویات کی سپلائی متاثر نہ ہونے دی جائے۔ کئی ریاستوں میں ایمرجنسی فارمیسیز، اسپتال میڈیکل اسٹورز اور متبادل سپلائی چین کو فعال رکھا گیا تاکہ مریضوں کو کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔