ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار میں وزیراعلیٰ سدرامیا کا بڑا اعلان؛ ہر ضلع میں میڈیکل کالج کا قیام حکومت کی اولین ترجیح

کاروار میں وزیراعلیٰ سدرامیا کا بڑا اعلان؛ ہر ضلع میں میڈیکل کالج کا قیام حکومت کی اولین ترجیح

Sun, 22 Feb 2026 23:33:22    S O News
کاروار میں وزیراعلیٰ سدرامیا کا بڑا اعلان؛ ہر ضلع میں میڈیکل کالج کا قیام حکومت کی اولین ترجیح

کاروار، 22 فروری (ایس او نیوز): وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے ہر ضلع میں سرکاری میڈیکل کالج قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سمت میں مرحلہ وار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 22 اضلاع میں سرکاری میڈیکل کالج کام کر رہے ہیں جبکہ باقی اضلاع میں بھی جلد قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات مقامی سطح پر دستیاب ہوں۔

کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (کریمس) کیمپس میں اتوار کو 198.27 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ 450 بستروں پر مشتمل ملٹی اسپیشالٹی اسپتال کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کاروار میں سوپر اسپیشالٹی اسپتال کے قیام کو آئندہ ریاستی بجٹ میں شامل کرنے کا بھی اعلان کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کاروار اور اطراف کے عوام کو اب تک اعلیٰ علاج کے لیے ہبلی، اڈپی اور منگلورو کا رخ کرنا پڑتا تھا، تاہم نئے اسپتال کی شروعات اور مجوزہ کینسر یونٹ کے قیام سے اس مسئلے میں بڑی حد تک راحت ملے گی۔

انہوں نے ضلع میں جاری دیگر ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ زیر التواء اولگا–کیروڈی پل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور ضروری فنڈ فوری طور پر جاری کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے اپنے دورے کے دوران دیگر کئی منصوبوں کا بھی افتتاح کیا، جن میں یلاپور تعلقہ میں ریاستی شاہراہ 93 پر 720.81 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ پل، یلاپور شہر میں 202.89 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ نئی ویٹنگ ہال کی عمارت، منڈگوڈ تعلقہ میں 248.18 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ نیا سیاحتی مسافر خانہ شامل ہیں۔

ریاست کے تمام اضلاع میں میڈیکل کالج قائم کرنے کے عزم کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اس وقت 22 اضلاع میں سرکاری میڈیکل کالج قائم ہو چکے ہیں جبکہ باقی اضلاع میں بھی جلد آغاز کیا جائے گا۔

اپوزیشن کی اس تنقید کے جواب میں کہ گارنٹی اسکیموں کی وجہ سے ترقیاتی کام رُک گئے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست بھر میں جاری افتتاحی تقاریب خود اس کا واضح جواب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اتر کنڑا ضلع میں گارنٹی اسکیموں کے تحت اب تک 2,954 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ ریاست بھر میں یہ رقم 1.18 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔

کاروار میں خطاب سے قبل  وزیراعلیٰ نے 34.21 کروڑ روپے کی لاگت سے انکولہ کے گنگاولی پر تعمیر شدہ منجوگنی–گنگاولی پل کا بھی افتتاح کیا، جو انکولہ اور کمٹہ تعلقہ کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 میں انہوں نے ہی اس پل کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور اب اسی پل کا افتتاح کرنا خوشی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو تقریباً 18 کلومیٹر کا اضافی فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا، خصوصاً برسات کے موسم میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ پل کی تعمیر سے انکولہ، کمٹہ اور گوکرن علاقوں کے عوام کو نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔

نائب وزیراعلیٰ کا خطاب
نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ حکومت ضلع کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے پُرعزم ہے اور عوام کو دی گئی طاقت کے بدلے میں عوامی فلاحی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساحلی کرناٹک میں سیاحت کے فروغ کے لیے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔ ریاست کی 360 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو ایک قیمتی قدرتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے جامع ترقیاتی منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔

وزیر برائے طبی تعلیم ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے کہا کہ حکومت تمام اضلاع میں سرکاری میڈیکل کالج، سوپر اسپیشالٹی اسپتال، ٹراوما کیئر سینٹر اور کینسر اسپتال قائم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

ماہی پروری، بندرگاہ اور اندرونِ آب نقل و حمل کے وزیر و ضلع انچارج منکال ایس ویدیا نے کہا کہ حکومت نے اپنے پانچوں گارنٹی وعدوں کو عملی شکل دی ہے اور ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔

کاروار–انکولہ کے رکن اسمبلی ستیش سیل نے سوپر اسپیشالٹی اسپتال کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں صنعتوں کے قیام کے لیے خصوصی مراعات دی جائیں تاکہ مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رکن اسمبلی فنڈ سے 25 کروڑ روپے مندروں کی ترقی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن میں شیجیشور مندر کی ہمہ جہتی ترقی شامل ہے تاکہ عقیدت مندوں اور سیاحوں کو راغب کیا جا سکے۔

اس موقع پر متعدد اراکین اسمبلی اور اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔


Share: