ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیڈتی–وردھا اور اگھناشِنی–ویداوتی ندی منصوبے کے خلاف سرسی میں زبردست احتجاج

بیڈتی–وردھا اور اگھناشِنی–ویداوتی ندی منصوبے کے خلاف سرسی میں زبردست احتجاج

Tue, 13 Jan 2026 01:30:34    S O News
بیڈتی–وردھا اور اگھناشِنی–ویداوتی ندی منصوبے کے خلاف سرسی میں زبردست احتجاج

سرسی، 12 جنوری (ایس او نیوز): بیڈتی–وردھا اور اگھناشِنی–ویداوتی ندی جوڑنے کے منصوبے (ریور ڈائیورژن پروجیکٹ) کے خلاف اترا کنڑ ضلع میں شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔ عوامی نمائندوں، مختلف مٹھوں کے سربراہان اور سماجی قائدین نے سرسی میں منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرہ کے ذریعے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے اس منصوبے کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوَرنا وَلّی گنگادھریندر سرسوتی سوامی جی کی قیادت میں منعقدہ اس احتجاج میں منصوبے کو ضلع کے لیے تباہ کن قرار دیا گیا۔

سرسی کے ایم ای ایس کالج میدان میں منعقدہ اس عظیم الشان مظاہرہ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔ مقررین نے ایک آواز میں کہا کہ بیڈتی–وردھا اور اگھناشِنی–ویداوتی ندی جوڑنے کا منصوبہ ضلع کے قدرتی ماحول، زراعت اور عوامی زندگی کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوگا۔

احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے اترا کنڑ ضلع کے انچارج وزیر منکال وئیدیا نے کہا کہ اس منصوبے سے فائدے کے مقابلے نقصانات کہیں زیادہ ہیں، اس لیے اسے جلد از جلد ترک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پورے اترا کنڑ ضلع کے لیے مہلک ثابت ہوگا اور اسی وجہ سے ضلع کے تمام عوامی نمائندے متحد ہو کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام نے ہمیں اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے اور ہم کسی بھی ایسی اسکیم کی حمایت نہیں کریں گے جو عوام اور ضلع کے مفادات کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن آج ہم سب ضلع کے مفاد میں یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اس اسٹیج سے، سوامی جی کی قیادت میں جو بھی فیصلہ لیا جائے گا، ہم سب کو اس پر قائم رہنا چاہیے۔ ایک بات اسٹیج پر اور دوسری باہر کہنا درست نہیں۔ یہ منصوبہ پورے ضلع کے لیے نقصان دہ ہے۔

اترا کنڑ کے رکنِ پارلیمان وشویشور ہیگڑے کاگیری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے جو وعدہ کر چکے ہیں، آج بھی اس پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نے انکولا نیشنل ہائی وے پر پہاڑی کھسکاؤ سمیت کئی قدرتی آفات اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضلع کی ماحولیاتی برداشت (Carrying Capacity) پر تفصیلی مطالعہ ناگزیر ہے، جس کے بارے میں وہ پہلے ہی ریاستی حکومت کو آگاہ کر چکے ہیں۔

یلاپور کے رکنِ اسمبلی شیورام ہیبّار نے کہا کہ وہ اس اسٹیج سے کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے۔ آج ضرورت ہے کہ پورے ضلع کے لیے ہم سب متحد ہوں۔ اتحاد میں کسی قسم کا اختلاف نہیں آنا چاہیے۔ اس منصوبے کو منسوخ کروانے کے لیے جدوجہد ناگزیر ہے اور ہمیں سوامی جی کے فیصلے کے پابند رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ بیڈتی، اگھناشِنی، وردھا اور ویداوتی ندیاں مغربی گھاٹ کے حساس ماحولیاتی خطے سے بہتی ہیں اور اترا کنڑ ضلع کی زراعت، ماہی گیری، جنگلات اور زیرِ زمین آبی ذخائر کا بنیادی سہارا ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق ان ندیوں کے پانی کو دوسری سمت موڑنے سے نہ صرف ساحلی اور جنگلاتی علاقوں میں ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خدشہ ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح، حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادی کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ندی جوڑ منصوبے کے ذریعے اندرونی اضلاع کی آبی قلت دور کرنے اور پینے و آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنے کا مقصد ہے، تاہم مقامی عوام، ماہرین اور عوامی نمائندے ان خدشات کے پیشِ نظر اس منصوبے کو ضلع کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔


Share: