کولکاتہ 13 جون(پریس ریلیز) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ملک گیر سطح پر وقف بچاو مہم جاری ہے جس کے تحت مغربی بنگال کے تمام اضلاع میں جمعہ کی نماز کے بعد ایک ساتھ انسانی زنجیر بنا کر وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی جم کر مخالفت کی گئی۔
یہ اپنے آپ میں ایک تاریخی اور منظم کوشش ہے۔ مسلم پرسنل لابورڈ نے مغربی بنگال میں تحفظ اوقاف کی تحریک کی ذمہ داری حضرت مولانا محمد ابوطالب رحمانی، رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور چیئرمین مولاناابوالکلام آزاد سنٹرکو تفویض کی ہے، چنانچہ مولانا محمد ابوطالب رحمانی رکن عاملہ مسلم پرسنل لا بورڈ وکنوینر تحفظ اوقاف تحریک برائے مغربی بنگال کی سرپرستی میں بنگال کے مسلمانوں نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا اورسبھی23 اضلاع کے مساجد میں ایک وقت میں بعد نماز جمعہ وقف قانون کے خلاف انسانی زنجیر مخالفت درج کرائی ہے۔یہ ایک تاریخی پہل ہے کہ کسی صوبہ کے تمام اضلاع میں ایک ساتھ ،ایک وقت میں، جمعہ کے بعد انسانی زنجیر کے ذریعہ خاموش مگر پر اثر مخالفت کی گئی ہے۔
واضح ہوکہ مغربی بنگال کے تمام اضلاع میں نمائندہ افراد کی ٹیم نے بیحد منظم طریقے سے انسانی زنجیر کے اس پروگرام کو کامیاب بنایا، مغربی بنگال میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مسجدوں کی کل تعداد پانچ ہزار سے سے زیادہ ہے، جسمیں مرکزی اور اہم مساجد کے ذمہ داران اور مصلیان نے آج جمعہ کے بعد انسانی زنجیر بنا کر، بینر کے ذریعہ وقف کے تحفظ کا اعلان کیا اور وقف ایکٹ 2025 کی مخالفت بھی کی، انسانی زنجیر کے ذریعہ مغربی بنگال کے تمام اضلاع میں کل 2963 مساجد میں یہ پروگرام پر امن طریقے سے مکمل کیا گیا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحفظ اوقاف کمیٹی کے کنوینر حضرت مولانا ابو طالب رحمانی کی ہدایت پر کمیٹی کے معاون کنوینر پیرزادہ عزیر صدیقی، بورڈ کے رکن الحاج محمود عالم صاحب،جماعت اسلامی ہند مغربی بنگال کے سکریٹری شاداب معصوم، فرفرہ شریف کے پیر زادہ ثوبان صدیقی،ہومین کئیر ٹرسٹ کے عمر اویس،ایس آر فاونڈیشن کے اطہر فردوسی اور نوشاد علی صاحبان پر مشتمل افراد نے اپنی اپنی جگہوں کے پروگرام میں شرکت کی۔
مغربی بنگال کے سبھی23 اضلاع علی پور دوار،بانکورہ، کچھ بہار، جلپائی گوڑی، کالم پونگ، دارجیلنگ، اتر دیناجپور، مالدہ، مرشدآباد، بیر بھوم، ہاوڑہ، دکھن دیناجپور، ہوگلی، جھار گرام ، کلکتہ ، ندیا، نورتھ چوبیس پرگنہ، پچھم بردوان، پچچھم مدنی پور، پورب بردوان، پورب مدنی پور، پرولیا، ساوتھ چوبیس پرگنہ میں ایک ساتھ، جمعہ کے بعد یہ پروگرام منعقد ہوا۔

یہ تحریک رکن بورڈ شاداب معصوم صاحب، سیکریٹری جماعت اسلامی ہند، پیرزادہ مولانا عزیر صدیقی صاحب، جوائنٹ کنوینر تحفظ اوقاف کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، عمراویس صاحب صدر ہیومن کیرٹرسٹ، الحاج نوشاد علی صاحب اصلاح معاشرہ کمیٹی مغربی بنگال، پیرذادہ ثعبان صدیقی صاحب فرفرہ شریف، مولانا قمرالزمان صاحب رکن بورڈ، مولانا حسیب الرحمن صاحب توحیدی جنتا، مفتی نجم الحق صاحب مرشد آباد، مفتی عامرعلی صاحب جے نگر، حافظ صدیق اللہ صاحب،پیرزادہ سید روح الامین صاحب مدنی پور، مولانا امین الانبیاء صاحب، ایڈووکیٹ محمد عارف صاحب ہوڑہ، محمد کلیم صاحب ہوڑہ، مولانا مظفرخان صاحب مرشد آباد، امان الحق صاحب، عمرفاروق اور ضلع کمیٹی کے ذمہ داران کے تعاون سے کامیاب رہی۔ الحمدللہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے حسب ہدایت مغربی بنگال میں تحفظ اوقاف کی تحریک مضبوطی کے ساتھ جاری ہے اورجب یہ قانون، بل کی شکل میں پیش ہوا، بورڈ کے اکابرین کی ہدایت کی روشنی میں مغربی بنگال میں مختلف اجلاس، سمینار، عوامی ریلیوں کے ذریعہ وقف کے تحفظ کے لئے عوامی تحریک چلائی جارہی ہے اور آج یہ تحریک تیز ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ 3 جون کو مغربی بنگال کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور گورنرکو ایک ساتھ میمورنڈم پیش کیا گیا تھا اور یہ کام بھی ایک تاریخ میں ایک وقت پر کیا گیا تھا، جو بہت پر اثر رہا، مغربی بنگال کے تحفظ اوقاف کمیٹی کے کنوینر حضرت مولانا محمد ابوطالب رحمانی صاحب نے فرمایا کہ مغربی بنگال میں آئندہ بھی وقف ایکٹ 2025 کے خلاف بہت سارے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔