منگلورو 13/ فروری (ایس او نیوز) وزیر برائے ماہی گیری و بندرگاہ منکال وئیدیا نے ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں منعقدہ کوسٹل ڈیولپمنٹ بورڈ کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دکشن کنڑا، اڈپی اور اتر کنڑا میں 13 ماہی گیری کی بندرگاہوں سے مٹی نکال کر انہیں گہرا کرنے کے لئے منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر آنے والے خرچ کا تخمینہ 70 کروڑ روپے لگایا گیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سے بات چیت ہوئی ہے اور جلد ہی فنڈ منظور ہونے کی امید ہے ۔ منکال وئیدیا نے کہا کہ ماہی گیری کے شعبہ کو مستحکم کرنے اور ماہی گیروں کے لئے ضروری انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے مقصد سے مختلف مقامات پر کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی طرف سے مچھلی مارکیٹ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس موقع پر بولتے ہوئے اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے کہا کہ ساحلی علاقے کی ترقی کے لئے ایک جامع سوچ اور طریقہ کار کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی پٹی پر بلند سطح کی عمدہ سڑکیں تعمیر کریں گے تو ایک طرف سمندری کٹاو کے مسئلے سے نمٹا جا سکے گا ۔ دوسری طرف شہروں کے درمیان رابطہ میں بہتری کے ساتھ سیاحت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے پشچھما واہینی پروجیکٹ کے لئے فنڈ کی فراہم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ الال کوٹیکر جیٹی منصوبہ سے نیو منگلورو پورٹ پر دباو میں کمی آئے گی ۔
موڈبیدری کے رکن اسمبلی اوما ناتھ کوٹیان نے سمندری کٹاو کے مسئلے کو مسقتل طور پر حل کرنے مانگ کرنے کے علاوہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے واٹر میٹرو پروجیکٹ پر عمل در آمد اور اہم سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کے لئے خصوصی فنڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔
کنداپور کے ایم ایل اے کرن کوڈگی نے مطالبہ کیا کہ بینگلورو میں موجود کوسٹل ریگولیشن ژون [سی آر زیڈ] کے دفتر کو منگلورو یا اڈپی میں منتقل کیا جائے ، تاکہ سی آر زیڈ کلیئرنس لینے میں ہونے والی تاخیر سے بچا جا سکے ۔ انہوں نے برہماور میں موجود اگریکلچرل سائنس کالج کو ساحلی علاقے کی ضروریات کو پورا کرنے کے مقصد ایک مکمل اگریکلچرل یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی بھی مانگ رکھی ۔
اڈپی کے ایم ایل اے یشپال سوورنا نے کہا کہ محکمہ ماہی گیری اور محکمہ بندرگاہ کو الگ کرنے سے ماہی گیری کی بندرگاہوں کو ترقی دینے میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے ۔ انہوں نے ایک خصوصی انجینئرنگ ونگ کے ساتھ ان دونوں محکمہ جات کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے ندیوں اور دریاوں کی تہہ سے مٹی اور کچرا نکالنے کے لئے ٹھیکے دینے میں ہو رہی تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پرائیویٹ ٹھیکیداروں پر انحصار کرنے کے بجائے اس کام کے لئے ضروری مشینری خود ہی خرید لے ۔ انہوں نے مغربی ساحل پر تمام ریاستوں کے لئے یکساں ماہی گیری پالیسی پر وضع کرنے کی مانگ کی ۔
ایم ایل سی ڈاکٹر دھننجئے سرجی نے ساحلی علاقے میں کینسر اور امراض قلب سے متاثرہ افراد کے علاج کے لئے سرکاری سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ ا س کے علاوہ ایم ایل اے بھاگیرتی مورولیا، منگلورو نارتھ ایم ایل اے بھرت شیٹی وغیرہ نے بھی مختلف مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ۔
کوسٹل ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیرمین ایم اے غفور نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ اہم منصوبوں کے تعلق سے تجاویز حکومت کو پیش کی جائیں گی اور جن نکات پر یہاں بحث ہوگی انہیں فنڈ حاصل کرنے کے لئے بورڈ کے ایکشن پلان میں شامل کیا جائے گا ۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر درشن ایچ وی، بورڈ کے سیکریٹری پردیپ ڈیسوزا اور دیگر سرکاری افسران موجود تھے ۔