منگلورو ، 7/ فروری (ایس او نیوز) منگلورو سٹی کرائم برانچ (سی سی بی) پولیس نے نیپال سے سرمایہ کاری کے نام پر بڑے پیمانے پر چلائے جا رہے ایک دھوکہ دہی ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے اور ہندوستانیوں کو نشانہ بنا کر سیکڑوں کروڑ روپوں کی دھوکہ دہی میں ملوث 11 ملزمان کو گرفتار کیا ہے ۔
سٹی پولیس کمشنر سدھیر کمار ریڈی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کمشنر کے ہندوستانی اور چینی شہریوں پرمشتمل دھوکہ دہی کا سنڈیکیٹ نیپال سے کام کررہا تھا اور ہندوستان بھر میں آن لائن سرمایہ کاری کے گھوٹالوں کو مربوط کررہا تھا ۔ منگلورو سٹی سی سی بی پولیس نے جہاں 11 ہندوستانی ملزمان کو گرفتار کیا ہے، وہیں نیپال پولیس نے ریکیٹ سے منسلک چینی شہریوں کو گرفتار کیا ہے ۔ پانچ ہندوستانی ملزمین اس وقت مفرور بتائے جا رہے ہیں جن کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں ۔
پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع کے وعدوں کے ساتھ راغب کیا ۔ کارروائی کے دوران ضبط شدہ موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کی جانچ کے نتیجے میں 624 بینک کھاتوں کی تفصیلات کا پتہ چلا ہے جن کے خلاف ملک بھر میں NCRP پورٹل پر 4,580 سے زیادہ شکایات درج کی گئی ہیں ۔ صرف ایک بینک اکاؤنٹ میں 167 کروڑ روپے کے لین دین کا پتہ چلا ہے ۔
منگلورو سی سی بی پولیس اسٹیشن میں درج مخصوص کیس میں دھوکہ بازوں نے 10 بینک کھاتوں کے ذریعے تقریباً 30,70,26,725 روپے دوسرے کھاتوں میں منتقل کیے ۔ پولیس نے بتایا کہ باقی 623 بینک کھاتوں کی تفصیلات کی ابھی جانچ اور تصدیق کی جارہی ہے ۔
کیس کی تفصیلات:جس کیس کی تفتیش کے دوران یہ کارروائی ہوئی ہے وہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66(C) اور 66(D) اور بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 318(4) اور 308(5) کے تحت CCB پولیس اسٹیشن کرائم نمبر 02/2026 کے طور پر درج کیا گیا ہے ۔ اس میں شکایت کنندہ کے ساتھ 1.38 کروڑ روپے کا دھوکہ ہواتھا اور اس رقم کو 10 مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ تکنیکی تجزیے اور تفتیش سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ فراڈ نیپال سے چلایا جا رہا تھا، جس کے نتیجے میں گروہ کی گرفتاری عمل میں آئی ۔
دھوکہ دہی کا طریقہ :پولیس نے وضاحت کی کہ دھوکہ بازوں کا ایک گروپ نیپال سے سوشیل میڈیا کے ذریعے بینک کھاتہ داروں اور ایجنٹوں کو بھرتی کرکے کام کرتا تھا ۔ دھوکہ دہی کی رقم کو متعدد اکاؤنٹس کے ذریعے وصول کیا گیا، USDT کریپٹو کرنسی میں تبدیل کیا گیا اور بیرون ملک منتقل کیا گیا ۔جبکہ کمبوڈیا اور دیگر ممالک سے کام کرنے والے ایک اور گروپ نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے سرمایہ کاروں سے رابطہ کیا ۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہندوستانیوں سے اپنے ٹارگیٹس سے ان کی مقامی زبانوں میں بات کرکے اور انہیں مزید رقم لگانے پر راضی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ نیپال میں مقیم گروپ پورے مالیاتی آپریشن کا کنٹرول اور اس کی نگرانی کرتا تھا ۔منگلورو کیس میں استعمال کیے گئے 10 بینک کھاتوں میں ملک بھر میں این سی آر پی پورٹل پر تقریباً 128 شکایات اور 36 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ۔
بینک اکاؤنٹس کیسے حاصل کیے گئے:پولیس کا کہنا ہے کہ دھوکہ بازوں نے مختلف کمپنیوں کے ناموں سے انسٹاگرام اور ٹیلی گرام پر جعلی اشتہارات بنائے، کارپوریٹ اکاؤنٹس، کرنٹ اکاؤنٹس، USDT سے INR ایکسچینج آپریٹرز، مینجمنٹ آپریٹرز اور OTP کارکنوں کی تلاش کی ۔ اپنے ساتھ جڑنے کے لئے لوگوں کو 5 سے 10 فیصد تک کمیشن کے ساتھ ساتھ فلائٹ ٹکٹ، کیب بکنگ، ہوٹل اور لاڈج کی سہولیات کی پیشکش کی گئی ۔جو لوگ آفرز کا شکار ہوئے انہیں دبئی اور نیپال جیسی جگہوں پر لے جایا گیا جہاں ان کے سم کارڈز کو جعلسازوں کے زیر کنٹرول فونز میں ڈال دیا گیا ۔ نیٹ بینکنگ کی سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان نے ضرورت کے مطابق رقوم منتقل کیں ۔ روزانہ USDT خریدی اور بیرون ملک ساتھیوں کو کریپٹو کرنسی بھیجی ۔
سرمایہ کار کیسے پھنس گئے؟:کمبوڈیا اور دبئی سے کام کرتے ہوئے کلیدی ملزم نے ہندوستانی شہریوں سے نامعلوم وہاٹس ایپ نمبروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، ٹیلی گرام اور فیس بک کے ذریعے رابطہ کیااور سرمایہ کاری کے لئے زیادہ منافع کا وعدہ کیا گیا ۔ بڑھے ہوئے منافع کو ظاہر کرنے کے لیے جعلی ایپس کا استعمال کیا گیا ۔ اعتماد پیدا کرنے کے لیے ابتدائی طور پر چھوٹی مقدار میں منافع ادا کیا جاتا تھا جس کے بعد اپنے شکار کو اپنی رقم نکالنے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کیا جاتا تھا ۔
پولیس نے بتایا کہ یہ گینگ اس طرح کی سرمایہ کاری کے فراڈ کے ذریعے ہندوستانی سرمایہ کاروں کو روزانہ 60 لاکھ سے 1 کروڑ روپے کا دھوکہ دے رہا تھا ۔
ڈیجیٹل غلامی پر انتباہ:سٹی پولیس کمشنر ریڈی نے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کو جعلی نوکریوں کے اشتہارات اور ایجنٹس کا شکار ہونے سے خبردار کیا ۔ ان کا کہنا ہے فراڈ میں ملوث کرنے کے لئے نوجوانوں کو اکثر سیاحتی ویزوں پر بیرون ملک لے جایا جاتا ہے ۔ ان کے پاسپورٹ ضبط کیے جاتے ہیں اور انہیں نامعلوم مقامات پر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ مناسب خوراک یا خاندان کے ساتھ رابطے کے بغیر انہیں معصوم سرمایہ کاروں سے ان کی مادری زبان میں بات کرنے اور ان کو دھوکہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اکیلے دکشن کنڑا ضلع میں چھ افراد کو پہلے ہی اس طرح کی سائبر غلامی سے بچایا جا چکا ہے ۔ اور ان کی شکایات کی بنیاد پر مقدمات درج کیے گئے ہیں ۔
رقم وصول کرنا کیوں مشکل ہو جاتا ہے؟:پولیس نے وضاحت کی کہ دھوکہ سے نکالی گئی رقم کی بازیابی اکثر اس لئے مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ جعلساز رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر کے اسی دن بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں ۔ متاثرین کی جانب سے فراڈ کی اطلاع دینے میں تاخیر ہونے سے بھی رقم کی وصولی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔
کھاتہ داروں کو سخت وارننگ:پولیس نے خبردار کیا ہے کہ کمیشن کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹس دوسروں کو فراہم کرنے والوں کو بھی ملزم سمجھا جائے گا ۔ چونکہ مرکزی آپریٹرز بیرون ملک رہتے ہیں اس لئے قانون کے تحت اکثر اکاؤنٹ فراہم کرنے والوں کو پہلے گرفتار کیا جاتا ہے ۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ:پولیس کی طرف سے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ منافع، جعلی SEBI سرٹیفکیٹس یا جعلی ڈیمیٹ اکاؤنٹس کا وعدہ کرنے والے پرکشش آن لائن اشتہارات میں نہ پڑیں ۔ پولیس کا کہنا ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی آن لائن سرمایہ کاری، تجارت اور پیسہ دوگنا کرنے کے گھپلوں کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں ۔
لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف SEBI کے رجسٹرڈ اداروں یا بروکرز کے ذریعے سرمایہ کاری کریں اور زیادہ منافع کے وعدوں کے سلسلے میں انتہائی احتیاط برتیں ۔
سائبر فراڈ کے خلاف حفاظتی اقدامات:پولیس نے عوام پر زور دیا ہے کہ ایسا کوئی معاملہ پیش آنے پر وہ فوری طور پر 1930 پر کال کریں اور دھوکہ دہی کا پتہ لگانے کے ایک گھنٹے کے اندر قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کریں ۔ جعلی لون ایپس، آن لائن گیمز، نوکری کی جعلی پیشکشوں، اے پی کے فائلوں، مشکوک لنکس، او ٹی پی کا اشتراک، اور پولیس، سی بی آئی، ججوں، کسٹمز، سی بی آئی یا ٹی آر اے آئی حکام کی نقالی کرنے والی جعلی ویڈیو کالوں کے خلاف بھی ہوشیار رہیں ۔
گرفتار ملزمینکی شناخت :گرفتار شدہ ملزمین کی شناخت گجرات کے مکوان وکرم (25 سال)، مغربی بنگال کے سومیادتیہ چٹوپادھیائے (21 سال)، جھارکھنڈ کے پوپلا شیوا کمار راؤ (32 سال)، اتر پردیش کے گورو پانڈے (24 سال)، ہرش مشرا (22 سال)، جھارکھنڈ کے راجیش منڈن (30 سال)، اتر پردیش کے محمد عاقب علی (27سال)، بہار کے راجیو رنجن کمار (30 سال)، جھارکھنڈ کے متھن کمار منگراج (38 سال)، اتر پردیش کے نوشاد علی (34) اور راجستھان کے اوم پرکاش یادو (37) کے طور پر ہوئی ہے۔
ضبط شدہ اشیاء:پولیس نے ایک لیپ ٹاپ، 21 موبائل فونز، مختلف کمپنیوں کے 20 سم کارڈز اور مختلف بینکوں کے 20 ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ ضبط کرلئے ہیں ۔ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے ۔