منگلورو 30 / مئی (ایس او نیوز) ’بھاگیہ رتی‘ نامی ماہی گیری کی کشتی جو اڈ پی کے ملپے بندرگاہ سے مچھلی پکڑنے کے لیے سمندر میں گئی تھی، منگلورو کے ساحل سے تقریباً پانچ سمندری میل دور ڈوب گئی ۔ البتہ جہاز میں سوار تمام ماہی گیروں کو بحفاظت بچا لیا گیا ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ کشتی برہماور کے مابوکالا کے رہائشی جئے سالیان کی تھی اور وہ 24 مئی کو ماہی گیری کے لیے نکلی تھی ۔ 26 مئی کی صبح منگلورو سے 8-10 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ماہی گیری کے دوران کشتی کے گیئر باکس میں خرابی پیدا ہوگئی ۔ صبح تقریباً 9.30 بجے کشتی منگلورو اولڈ پورٹ پر مرمت کے لیے پہنچی ۔
مرمت کے بعد تقریباً 9.30 بجے کشتی گودی سے نکلی اور تقریباً پانچ ناٹیکل میل کی دوری پر دوبارہ سمندر میں مچھلیاں پکڑنا شروع کیا ۔
معلوم ہوا ہے کہ ماہی گیری کے دوران یہ کشتی مبینہ طور پر سمندر کے نیچے ایک اور کشتی کے ڈوبے ہوئے حصے سے ٹکرا گئی، جس سے پانی اس کے اندر داخل ہو گیا اور کشتی ڈوبنے لگی ۔
تقریباً 12.30 بجے جب کشتی مکمل طور پر ڈوبنے کے دہانے پر تھی تو قریب ہی موجود چار کشتیوں کے عملے کے ارکان نے مدد کے لیے پہچنے اور اس ڈوبتی ہوئی کشتی پر موجود ماہی گیروں کو بچا لیا ۔ اسی کے ساتھ ڈوبنے والی کشتی کو رسیوں سے باندھ کر دو دیگر کشتیوں کی مدد سے اولڈ پورٹ کی گودی کے قریب ہوئگے بازار تک لے جایا گیا ۔
اس حادثے میں دو دن تک ماہی گیری کے بعد کشتی میں محفوظ رکھی گئی تقریباً 1 لاکھ روپے مالیت کی مچھلیاں، تقریباً 2500 لیٹر ڈیزل، نیوی گیشن آلات بشمول GPS، AIS، وائرلیس سیٹ اور فش فائنڈر کے ساتھ ساتھ مچھلی پکڑنے کے جال بھی تباہ ہو گئے ۔
اس کے علاوہ پانی انجن میں بھی داخل ہو گیا جس سے کشتی مرمت کے قابل نہیں رہی ۔
کشتی کے مالک نے اپنی شکایت میں کل نقصان کا تخمینہ تقریباً 25 لاکھ روپے بتایا ہے۔
اس واقعہ کے سلسلے میں منگلورو کوسٹل سیکیوریٹی پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔