ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اداریہ / مَنگلورو کابینہ اجلاس: کیا شیوکمار ساحلی کرناٹکا کی سیاسی بساط بدلنے کی تیاری کر رہے ہیں؟

مَنگلورو کابینہ اجلاس: کیا شیوکمار ساحلی کرناٹکا کی سیاسی بساط بدلنے کی تیاری کر رہے ہیں؟

Thu, 24 Sep 2026 14:26:26    S O News
مَنگلورو کابینہ اجلاس: کیا شیوکمار ساحلی کرناٹکا کی سیاسی بساط بدلنے کی تیاری کر رہے ہیں؟

بھٹکل، 24 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک کا ساحلی علاقہ گزشتہ تین دہائیوں سے بی جے پی کا مضبوط سیاسی گڑھ رہا ہے۔ 1993 کے بھٹکل فرقہ وارانہ فسادات اس خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئے، جس کے بعد ساحلی کرناٹکا میں فرقہ وارانہ شناخت اور ہندوتوا کی سیاست کو نئی سیاسی جگہ ملی اور آنے والے برسوں میں بی جے پی نے یہاں اپنی انتخابی بنیاد مضبوط کی۔ 1994 میں آر ایس ایس سے وابستہ ڈاکٹر یو چترنجن کی بھٹکل اسمبلی حلقے سے کامیابی اور 1996 میں ان کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی و سماجی کشیدگی نے اس خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بعد کے برسوں میں ساحلی کرناٹکا بی جے پی کے اہم سیاسی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ حالیہ گنیش وسرجن جلوس کے دوران پیش آئے پتھراؤ سمیت مختلف اوقات میں یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی، احتجاج اور تشدد کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

ایسے سیاسی پس منظر میں، جبکہ اگلے اسمبلی انتخابات میں ابھی تقریباً ڈیڑھ سال باقی ہے، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ساحلی کرناٹکا پر اپنی حکومت کی خصوصی توجہ مرکوز کردی ہے۔ 18 ستمبر کو مَنگلورو میں ان کی قیادت میں منعقدہ خصوصی کابینہ اجلاس، اور اس میں ساحلی خطے کے لیے 32,611 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور تجاویز کو منظوری، اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ کانگریس ساحلی کرناٹکا میں بی جے پی کی طویل عرصے سے قائم سیاسی برتری کو ترقی، علاقائی شناخت اور انتظامی فیصلوں کے ذریعے چیلنج کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

مَنگلورو میں منعقدہ یہ اجلاس شیوکمار حکومت کا بنگلورو سے باہر پہلا کابینہ اجلاس تھا۔ حکومت کے مطابق پیکیج میں بنیادی ڈھانچے، دیہی ترقی، سیاحت، بندرگاہوں، ماہی گیری، صحت اور دیگر شعبوں سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ حکومت نے آئندہ 15 ماہ کے دوران ریاست کے 10 سے 12 دیگر مقامات پر بھی کابینہ اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مَنگلورو اجلاس کی اہمیت صرف 32,611 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج تک محدود نہیں۔ کابینہ نے دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع میں تُلو کو ریاست کی دوسری اضافی انتظامی زبان کا درجہ دینے کا فیصلہ بھی کیا۔ حالانکہ کرناٹک میں کنڑا کے بعد اردو سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان ہے اور 2011 کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں تقریباً 10.83 فیصد افراد نے اردو کو اپنی مادری زبان بتایا تھا، اس کے باوجود اردو ریاست کی سرکاری زبانوں میں شامل نہیں ہے۔ ساحلی خطے کے لیے نئی ٹورزم پالیسی، مَنگلورو، اُڈپی اور کاروار کے 12 جزائر کو سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دینے، فشریز اور بلیو اکانومی کے شعبے کو وسعت دینے اور دیگر منصوبوں کے اعلانات بھی کیے گئے۔

تُلو کے معاملے میں بھی سیاسی مقابلے کا ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ اس مطالبے پر سابق بی جے پی حکومت نے بھی جنوری 2023 میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اب کانگریس حکومت نے دکشن کنڑا اور اُڈپی میں تُلو کو اضافی انتظامی زبان کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوں زبان اور ثقافتی شناخت کا سوال بھی ساحلی کرناٹکا میں دونوں بڑی جماعتوں کی سیاسی رسائی کا حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

کابینہ نے دکشن کنڑا ضلع کا نام تبدیل کرکے مَنگلورو ضلع رکھنے کے عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس سلسلے میں ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری کرکے عوام سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ بھی خطے کی مقامی شناخت اور انتظامی علامتوں کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔

لیکن شیوکمار کے لیے اصل سیاسی چیلنج انتخابی اعداد و شمار میں پوشیدہ ہے۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں دکشن کنڑا اور اُڈپی کے مجموعی 13 حلقوں میں بی جے پی نے 11 نشستیں جیتی تھیں، جن میں اُڈپی کی تمام پانچ اور دکشن کنڑا کی آٹھ میں سے چھ نشستیں شامل تھیں، جبکہ کانگریس کو صرف دو نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔

یہ صورتحال ہمیشہ ایسی نہیں رہی۔ 2013 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے انہی دونوں اضلاع کی 13 میں سے 10 نشستیں جیتی تھیں۔ اس کے بعد ساحلی خطے میں سیاسی توازن نمایاں طور پر بی جے پی کے حق میں تبدیل ہوا۔ یہی انتخابی تاریخ بتاتی ہے کہ ساحلی کرناٹکا میں سیاسی رجحانات تبدیل ہونا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے محض انتخابی مہم سے زیادہ گہری سیاسی اور سماجی رسائی درکار ہوگی۔

یہ انتخابی اعداد و شمار اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ مَنگلورو کانگریس کے لیے کیوں اہم ہے۔ اگر کانگریس کرناٹک میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو وسعت دینا چاہتی ہے تو ساحلی خطے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی اور انتظامی ترجیحات میں نمایاں جگہ دی جارہی ہے۔ ساحلی پٹی کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے، بندرگاہوں کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ماہی گیروں سے متعلق مسائل حل کرنے پر حکومت کی جانب سے زور دیا جارہا ہے۔ حکومت کے مطابق بعض بڑے منصوبوں سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

شیوکمار کی موجودہ حکمت عملی اسی پس منظر میں زیادہ معنی خیز دکھائی دیتی ہے۔ کابینہ اجلاس سے قبل مَنگلورو میں ان کا روڈ شو اور مندر کا دورہ بھی اس سیاسی outreach کا حصہ سمجھا گیا۔ ایک سینئر بی جے پی رہنما نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شیوکمار ساحلی کرناٹکا میں بی جے پی کے ووٹ بینک میں نقب لگانے کے لیے ’’نرم ہندوتوا‘‘ کا استعمال کررہے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی رہنماؤں نے 32,611 کروڑ روپے کے اعلانات کی مالی بنیاد اور ان پر عمل درآمد پر سوال اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے اعلانات کے عملی نفاذ پر سوال کیا، جبکہ بی جے پی لیجسلیٹو کونسل کے چیف وہپ این روی کمار نے پیکیج کے لیے مالی وسائل کے ماخذ پر اعتراض کیا ہے۔

کانگریس کی طرف سے ساحلی کرناٹکا کے لیے پیش کیا جانے والا بیانیہ اس کے برعکس ترقی، روزگار، بنیادی ڈھانچے، علاقائی شناخت اور ساحلی معیشت کے گرد گھومتا ہے۔ وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے بھی بی جے پی پر ساحلی کرناٹکا کو ’’فرقہ واریت کی تجربہ گاہ‘‘ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس حکومت کے ذریعے اسے ’’ترقی کی تجربہ گاہ‘‘ میں تبدیل کرنے کی بات کہی ہے۔

ساحلی کرناٹکا کی سیاست میں شناخت، مذہب، زبان، ثقافت اور علاقائی جذبات نے طویل عرصے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں شیوکمار کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی گفتگو کو صرف شناختی مسائل سے آگے بڑھا کر ترقی، روزگار، علاقائی مطالبات اور انتظامی شناخت تک وسعت دی جاسکتی ہے۔

یہ حکمت عملی کس حد تک انتخابی اثر ڈالے گی، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ حکومت کے لیے فوری امتحان یہ ہے کہ 32,611 کروڑ روپے کے اعلانات میں سے کتنے منصوبے زمین پر نظر آتے ہیں اور ان کا عوامی زندگی پر کتنا اثر پڑتا ہے۔

اگر سیاحت، ماہی گیری، بنیادی ڈھانچے، صحت اور روزگار سے متعلق منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو کانگریس کے پاس ساحلی خطے میں ترقی پر مبنی سیاسی بیانیہ پیش کرنے کی بنیاد مضبوط ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے پاس اس خطے میں طویل عرصے سے قائم تنظیمی اور انتخابی بنیاد موجود ہے۔

اس لحاظ سے مَنگلورو کابینہ اجلاس کو نہ تو محض ایک ترقیاتی اجلاس سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے فوراً بعد کسی انتخابی نتیجے کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ شیوکمار نے حکومت کو ساحل تک لے جاکر بی جے پی کی قائم شدہ سیاسی بنیاد کو چیلنج کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔ ترقی، علاقائی شناخت، زبان اور بنیادی ڈھانچے کے ذریعے وہ اس خطے کے ساتھ اپنا سیاسی رابطہ مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

2028 کے اسمبلی انتخابات ابھی دور ہیں، لیکن ساحلی کرناٹکا میں ان کی سیاسی بساط بچھانے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ مَنگلورو کابینہ اجلاس شیوکمار کی اس حکمت عملی کا پہلا بڑا مظاہرہ ہے؛ اب اصل سوال یہ ہے کہ ترقی، علاقائی شناخت اور سیاسی رابطے کا یہ امتزاج ساحلی کرناٹکا کے طویل عرصے سے قائم سیاسی رجحان میں کتنی تبدیلی لا پاتا ہے۔

Click here for report in English


Share: