ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / چھتیس گڑھ میں دو کیرالہ نَن گرفتار، بجرنگ دل کے دباؤ پر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: چرچ اور کانگریس کا الزام

چھتیس گڑھ میں دو کیرالہ نَن گرفتار، بجرنگ دل کے دباؤ پر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: چرچ اور کانگریس کا الزام

Mon, 28 Jul 2025 20:25:00    S O News

چھتیس گڑھ، 28/ جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی): چھتیس گڑھ کے درگ ریلوے اسٹیشن پر ہفتہ کے روز دو کیتھولک نَنز، ایک نوجوان مرد اور تین نوجوان لڑکیوں کو ریلوے پولیس نے حراست میں لے کر مذہبی تبدیلی اور انسانی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان میں کیرالہ کی رہنے والی ننز پریتی میری اور وندنا فرانسس شامل ہیں، جبکہ لڑکیاں نارائن پور ضلع کی رہائشی تھیں۔

یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب ایک ریلوے ٹکٹ ایگزامنر نے پلیٹ فارم پر ٹکٹ نہ ہونے کی بنیاد پر سوال کیا اور فوراً مقامی بجرنگ دل کو اطلاع دی، جنہوں نے موقع پر پہنچ کر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروانے کے لیے دباؤ ڈالا۔

گرجا گھر کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق گرفتار شدہ نَنز ان لڑکیوں کو آگرہ کے ایک کانونٹ میں خانساماں کی ملازمت دلانے کے لیے لے جا رہی تھیں، جہاں انہیں ماہانہ 8 تا 10 ہزار روپے تنخواہ ملنی تھی۔ لڑکیوں کی عمریں 18 سے 19 سال کے درمیان تھیں اور ان کے والدین کی تحریری رضامندی بھی موجود تھی۔

چرچ کا الزام ہے کہ پولیس نے کوئی نمائندہ ملنے نہیں دیا اور لڑکیوں پر دباؤ ڈال کر ان کے بیانات تبدیل کروائے گئے۔ گرفتار شدگان پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 143 اور چھتیس گڑھ مذہبی آزادی ایکٹ 1968 کی دفعہ 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

کئی عیسائی رہنماؤں نے اسے دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چرچ کے اداروں پر حملے، من گھڑت الزامات اور پادریوں کی گرفتاری اب معمول بنتی جا رہی ہے، اور بی جے پی حکومتوں کی خاموشی ان گروپوں کو مزید شہ دے رہی ہے۔

کانگریس کے رہنما کے سی وینوگوپال نے مرکزی وزیر داخلہ اور ریاستی وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اس واقعہ کی مذمت کی اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے یونائیٹڈ کرسچین فورم کے مطابق 2014 میں ایسے واقعات کی تعداد 127 تھی جو 2024 میں بڑھ کر 834 ہو چکی ہے، جو ایک خطرناک رجحان کی نشان دہی کرتا ہے۔


Share: