منگلورو، 4 / فروری (ایس او نیوز) سڑک پر حادثات پیش آنے یا طبی ہنگامی حالات میں لوگوں کی جان بچانے کے لیے سائرن بجاتے ہوئے ایمبولینسوں کا دوڑنا ایک عام سی بات ہے ۔ تاہم جب سمندر کے وسط میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو زخمیوں کو فوری طور پر ساحل پر لانے کی سہولیات کی کمی اکثر جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہے ۔
ایک طویل عرصے سے ساحلی علاقے میں بحری ایمبولینس کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی اور سرکاری سطح پر اسے پورا کرنے کی باتیں سنائی دے رہی تھی ۔ لیکن اب منگلورو میں اُلال کے ماہی گیروں نے خود ہی پہل کرتے ہوئے ریاست کی پہلی ’بوٹ ایمبولینس‘ سروس شروع کی ہے جس نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق اس ہنگامی کشتی سروس کا آغاز اُلال ژون کے ناڈا دونی [دیسی کشتی] اور گلنیٹ فشرمینز ایسوسی ایشن نے کیا ہے ۔ اس سروس کا مقصد سمندر میں کشتی الٹنے، کشتی میں آگ لگنے کے حادثات، یا ماہی گیروں کی اچانک پیش آنے والی طبی ہنگامی صورت حال میں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا اور زخمیوں یا متاثرین کو فوری طور پر ساحل تک پہنچانا ہے ۔
اگرچہ کئی دہائیوں سے ساحلی علاقے میں بحری ایمبولینس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن تکنیکی اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے حکومتی منصوبوں پر تا حال عمل نہیں ہو سکا ۔ یہ ایک قابل ستائش اقدام ہے کہ بالآخر ماہی گیروں نے حکومتی تعاون کا انتظار کیے بغیر خود ہی اس سروس کو شروع کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا ۔
معلوم ہوا ہے کہ خصوصی طور پر تیار کی گئی یہ کشتی سائرن، ریڈ وارننگ لائٹس، اسٹریچر، آکسیجن سلنڈر، فرسٹ ایڈ کٹ اور لائف جیکٹس سے لیس ہے ۔ ایسے انتظامات کیے گئے ہیں کہ سائرن کی آواز سن کر دوسری کشتیاں راستہ دیں ۔ اس میں ایک پبلک ایڈریس سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے جس سے ساحل پر موجود لوگوں کے ساتھ رابطہ آسان ہو جاتا ہے، جو ہنگامی حالات میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔
ہنگامی سروس کے انتظام کے لیے تین تربیت یافتہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو سخت سمندری حالات میں بھی تیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ کشتی الٹنے کے واقعات کے دوران سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے ہونے والی اموات کو روکنا اس اقدام کا ایک اہم مقصد ہے ۔فی الحال ایک بوٹ ایمبولینس چل رہی ہے ۔
اگر حکومت کی طرف سے مالی مدد فراہم کی جائے تو ماہی گیروں کی ایسوسی ایشن ان کشتیوں کو مزید جدید طبی سہولیات سے آراستہ کرکے اس قسم کی سروس کو پورے ضلع میں بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ الال کے ماہی گیروں کا یہ اقدام ساحل کے ساتھ انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے کی گئی اہم کوشش اور ایک نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔