ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک ایس آئی آر: 2002 کی غلطیوں کی بنیاد پر موجودہ ووٹروں کی جانچ پر سوالات

کرناٹک ایس آئی آر: 2002 کی غلطیوں کی بنیاد پر موجودہ ووٹروں کی جانچ پر سوالات

Mon, 14 Sep 2026 19:05:25    S O News

بنگلورو  ، 14/ ستمبر (ایس او نیوز / ایجنسی)کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی انتہائی نظرِ ثانی یعنی ایس آئی آر کے تحت 2002 کی ووٹر فہرستوں کو موجودہ فہرست سے جوڑنے اور ریکارڈ کی جانچ کا وسیع عمل جاری ہے۔ اس دوران ایسے لاکھوں ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جارہے ہیں جن کے نام 2002 کی فہرست سے مربوط نہیں ہوپارہے یا جن کے ریکارڈ میں نام، عمر، پتہ یا دیگر تفصیلات میں فرق پایا جارہا ہے۔ تاہم اس پورے طریقۂ کار پر یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اگر بنیادی ریکارڈ ہی سابقہ دور کی غلطیوں سے پاک نہیں تھا تو موجودہ ووٹروں کو انہی خامیوں کی بنیاد پر دوبارہ جانچ کے کٹہرے میں کھڑا کرنا کس حد تک مناسب ہے۔

ایک تجزیاتی مضمون میں رگھویندر ڈی ایل نے لکھا ہے کہ انتخابی کمیشن کی جانب سے اس عمل کو ووٹر فہرستوں کی صفائی اور تمام بے ضابطگیوں کے خاتمے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، لیکن 2002 کی فہرستوں کو بنیادی معیار بنانا بذاتِ خود کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔

مضمون کے مطابق 2002 میں ووٹر فہرستیں بڑی حد تک دستی طور پر تیار کی گئی تھیں، جن میں ناموں کے ہجے، عمر اور پتوں سے متعلق غلطیاں موجود تھیں۔ بعد میں جب ان معلومات کو رقمی نظام میں منتقل کیا گیا یا انگریزی میں درج کیا گیا تو مبینہ طور پر مزید غلطیاں پیدا ہوئیں۔ مثال کے طور پر مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی فہرست میں ’راجما‘ نام درست ہونے کے باوجود رقمی اندراج کے دوران اسے غلطی سے ’گورما‘ درج کردیا گیا۔ اگر ایسی غلطیاں سرکاری ریکارڈ میں موجود تھیں تو انہی کو موجودہ ووٹر کی شناخت کا بنیادی معیار بنانا سوالات کو جنم دیتا ہے۔

مضمون میں یہ بنیادی سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر 2002 کی فہرستوں میں اتنی بڑی تعداد میں غلطیاں یا نامکمل اندراجات موجود تھیں تو 2002 کے بعد ہونے والے انتخابات کی شفافیت اور ان کے نتائج کی قانونی و جمہوری حیثیت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اگر گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ووٹر فہرستیں مسلسل نظرِ ثانی کے مراحل سے گزرتی رہی ہیں تو آج اچانک اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے ریکارڈ میں تضادات کیوں سامنے آرہے ہیں؟

اس تجزیے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ 2002 سے اب تک ووٹر فہرستوں کی تیاری، نظرِ ثانی اور اصلاح پر سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی رقم اور اس پورے عمل میں ہونے والی ممکنہ انتظامی غلطیوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔ مضمون نگار نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر موجودہ مسائل سابقہ ریکارڈ کی غلطیوں کا نتیجہ ہیں تو متعلقہ نظام اور ذمہ دار اہلکاروں کی جواب دہی بھی طے ہونی چاہیے۔

مضمون میں ایس آئی آر کے دوران سامنے آنے والے بعض معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کئی ووٹروں کو ایسی وجوہات کی بنیاد پر نوٹس دیے گئے جن کا تعلق ان کی اپنی کسی غلطی سے نہیں بلکہ ریکارڈ یا رقمی اندراج میں موجود فرق سے ہوسکتا ہے۔

بیاٹراین پورہ کی اناپورنا کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام مطلوبہ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود انہیں خاندان کے بزرگ کی عمر سے متعلق فرق کی بنیاد پر نوٹس ملا۔ جے نگر میں جڑواں بچوں کی عمر کے درمیان نو ماہ کا فرق نہ ہونے کو بھی مبینہ طور پر اعتراض کی وجہ بنایا گیا۔ اسی طرح کُک ٹاؤن میں ترجمے یا نام کے ہجے میں مبینہ غلطی کی وجہ سے ایک ووٹر کو نوٹس ملنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

مضمون میں صحافی روہنی موہن کے معاملے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ والد کا نام بطور خاندانی نام استعمال کرنے کی وجہ سے ان کے ریکارڈ میں فرق پیدا ہوا اور انہیں بھی نوٹس جاری ہوا۔

مضمون نگار کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر نام، عمر، ترجمے یا دیگر تفصیلات میں فرق انتخابی کمیشن کے ریکارڈ کو رقمی نظام میں منتقل کرنے کے دوران پیدا ہوا ہے تو اس کی اصلاح کی ذمہ داری بھی متعلقہ نظام کی ہونی چاہیے۔ عام ووٹر، خصوصاً مزدور اور کم آمدنی والے افراد، اپنی روزمرہ کی مصروفیات چھوڑ کر سرکاری دفاتر کے چکر لگانے اور دستاویزات پیش کرنے پر کیوں مجبور ہوں؟

مضمون میں ایس آئی آر کے دوران استعمال کیے جانے والے ’منطقی تضاد‘ کے خودکار نظام پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ مضمون نگار کے مطابق معمولی نوعیت کے نام، عمر یا ترجمے کے اختلافات کو بھی ایسے انداز میں دیکھا جارہا ہے جیسے ووٹر کی جانب سے کوئی سنگین غلطی کی گئی ہو۔

مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر سرکاری علاقائی زبان کی فہرست میں کسی ووٹر کا نام درست درج ہو، لیکن اسی نام کا انگریزی ریکارڈ میں غلط اندراج ہوجائے، تو موجودہ نظام اسے مطابقت نہ رکھنے والا معاملہ قرار دے سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ سرکاری عملے یا رقمی نظام کی غلطی کی سزا ووٹر کو کیوں ملے؟

مضمون میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ زبان اور ترجمے سے متعلق معمولی اختلافات کو ووٹر کے حقِ رائے دہی پر سوال اٹھانے کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ مضمون میں ایس آئی آر کے دوران دستاویزات کی طلب کے طریقۂ کار پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی شہری کسی مخصوص دستاویز کو مقررہ وقت پر پیش نہ کرسکے تو کیا صرف اسی بنیاد پر اسے ووٹر فہرست سے خارج کرنا مناسب ہوگا؟

مضمون نگار کے مطابق ہندوستان جیسے ملک میں عام شہریوں کے پاس ہر معاملے کے لیے ایک جیسے اور مکمل دستاویزات موجود نہیں ہوتے۔ ایسے میں انتظامیہ کو دستیاب دیگر معتبر شواہد اور زمینی حقائق کو بھی مناسب اہمیت دینی چاہیے۔ صرف مخصوص دستاویز کی عدم موجودگی کو شہری یا ووٹر کے خلاف حتمی نتیجہ اخذ کرنے کی بنیاد بنانا عوامی مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ 21ویں صدی میں ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کے باوجود ووٹر فہرست کی نظرِ ثانی کا عمل ایسا ہونا چاہیے جس میں عام شہری کو کم سے کم دشواری پیش آئے۔ اگر خودکار نظام میں معمولی اختلافات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر نوٹس جاری ہوں اور ہر معاملے میں ووٹر کو ذاتی طور پر وضاحت پیش کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کا رخ کرنا پڑے تو اس عمل کے عوام دوست ہونے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

مضمون نگار نے موقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی جمہوری نظام کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ووٹر کے حقِ رائے دہی، انسانی حالات اور سرکاری ریکارڈ کی سابقہ غلطیوں کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔

ایس آئی آر کا بنیادی مقصد اگر ووٹر فہرستوں کو زیادہ درست اور شفاف بنانا ہے تو اس عمل میں غلط اندراجات کی ذمہ داری کا تعین، شہریوں کو مناسب موقع فراہم کرنا، آسان طریقۂ کار اختیار کرنا اور کسی بھی ووٹر کے خلاف کارروائی سے قبل اس کا مؤقف سننا ضروری ہوگا۔ یہی طریقہ انتخابی فہرست کی درستگی اور شہری کے حقِ رائے دہی، دونوں کے درمیان متوازن راستہ فراہم کرسکتا ہے۔


Share: