نئی دہلی، 11 / جون (ایس او نیوز) کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے دہلی میں کانگریس پارٹی ہائی کمان سے ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے گزشتہ دس سال قبل ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن چیرمین ایچ کانتا راجو نے جو 'سماجی و اقتصادی سروے' کروایا تھا اس کی رپورٹ کے پس منظر میں اب پھر ایک بار یہ سروے یا 'ذات شماری' کا عمل دہرایا جائے گا ۔
خیال رہے کہ پارٹی ہائی کمان کی طرف سے نئی دہلی کے کانگریس دفتر میں ذات شماری، آر سی بی جشن کے دوران پیش آنے والی ٹریجڈی میں 11 افراد کی موت اور اس کے بعد ریاستی حکومت کے اقدامات وغیرہ کے سلسلے میں بات چیت کے لئے میٹنگ طلب کی گئی تھی ۔
وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے اس میٹنگ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ذات شماری کے تعلق سے کئی تنظیموں اور اداروں، بعض ذاتوں کے قائدین، مٹھ کے سربراہوں اور بعض وزراء نے اختلافی رائے ظاہر کی تھی ۔ اس ضمن میں میٹنگ میں گفتگو کی گئی اور بیک ورڈ کلاس کمیشن کی رپورٹ کو اصولی طور پر قبول کرتے ہوئے ایک متعینہ مدت کے اندر پھر ایک بار سروے کروانے کی بات طے کی گئی ۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کرناٹکا معاملات کے کانگریس پارٹی انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا کا مشورہ تھا کہ ذات شماری رپورٹ کے تعلق سے اے آئی سی سی کے صدر ملیکارجن کھرگے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، اے آئی سی سی تنظیمی جنرل سیکریٹری وی سی وینو گوپال کے ساتھ بات چیت کرنا چاہیے ۔ اسی پس منظر میں آج کی یہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اعلیٰ قائدین کا خیال تھا کہ سروے رپورٹ کو چونکہ دس سال کا عرصہ گزر گیا ہے اس لئے دوبارہ ذات شماری ہو جائے تو بہتر ہوگا ۔ فی الحال ریاست میں شیڈول کاسٹ کا سروے کیا جا رہا ہے، اسی طرز پر ذات شماری کا عمل دہرایا جائے گا ۔ 90 دنوں کے عرصے میں سروے مکمل کرکے حکومت کو رپورٹ سونپنے کے لئے کہا جائے گا ۔
الجھن دور کرنے کا موقع ملے گا: ریاستی کانگریس چیف اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوا کمار نے کہا کہ ذات شماری رپورٹ کے سلسلے میں اعتراضات اور طبقاتی اعداد و شمار کے سلسلے میں پائی جانے الجھنیں دور کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے از سر نو سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ گھر گھر جا کر سروے کرنے کے علاوہ آن لائن کے ذریعے ہر کسی کو اپنی معلومات پھر ایک مرتبہ فراہم کرنے کا موقع رہے گا ۔
12 جون کو منعقد ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں اس تعلق سے قطعی فیصلہ کیا جائے گا جس کے بعد وزیر اعلیٰ کی طرف سے سروے کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا ۔
سروے سے کوئی چھوٹنے نہ پائے : ڈی کے شیوا کمار نے کہا دوبارہ ذات شماری کا مقصد یہ ہے کہ اس عمل سے کوئی بھی چھوٹنے نہ پائے ۔ پارٹی کے اعلیٰ قائدین نے وزیر اعلیٰ کو ہدایت دی ہے کہ اس تعلق سے کسی طرف سے اعتراض کی گنجائش نہیں رہنی چاہیے ۔ حکومت ہر ایک کو سماجی انصاف فراہم کرنے کی پابند ہے ۔ ذات شماری رپورٹ کے اعداد و شمار پر مختلف سماجی طبقات کی طرف سے اعتراض سامنے آئے تھے ۔ ان سب کو اس سلسلے میں وضاحت پیش کرنے کا موقع دینے کے لئے دوبارہ سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
بھگدڑ المیہ پر گفتگو :وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہائی کمان کی میٹنگ کے دوران میں چنا سوامی اسٹیڈیم میں پیش آئے بھگدڑ المیہ پر بھی گفتگو ہوئی ۔ ہم نے اس حادثے بعد میجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات، جسٹس مائیکل ڈی کنہا کے ذریعے عدالتی تحقیقات، پانچ اعلیٰ پولیس افسران کو معطل کرنے، انٹلی جنس شعبے کے سربراہ کا تبادلہ، سیاسی سیکریٹری کو خدمات سے سبکدوش کرنے جیسے اقدامات کی تفصیل ہائی کمان کو پیش کی اور انہوں نے اس کی تائید کی ۔
کابینہ کی توسیع کے معاملے پر بات چیت کے بارے میں پوچھنے پر سدا رامیا نے بتایا کہ اس میٹنگ میں کابینہ کی توسیع یا از سر نو تشکیل کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔
اس موقع پر ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار، ریاستی معاملات کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا سمیت کانگریس پارٹی کے اہم لیڈران موجود تھے ۔