ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / وادی کے سیاحتی مقامات پر پھر سے رونقیں، سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

وادی کے سیاحتی مقامات پر پھر سے رونقیں، سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

Tue, 10 Jun 2025 13:55:01    S O News
وادی کے سیاحتی مقامات پر پھر سے رونقیں، سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

سری نگر، 10/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)جموں و کشمیر حکومت اور فریقوں کی کاوشوں کے نتیجے میں وادیٔ کشمیر کے سیاحتی مقامات میں غیر مقامی سیاحوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کے مایوس چہروں پر ایک بار پھر خوشی دیکھی جا رہی ہے۔ وادیٔ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ سری نگر کی دلکش جھیل ڈل میں بھی سیاح قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ پہلگام میں ہونے والے حملے کی وجہ سے وادیٔ کشمیر کے سیاحتی شعبے کو شدید نقصان پہنچا تھا اور سیاحوں کی آمد تقریباً رک گئی تھی تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے سیاحتی سرگرمیوں میں دوبارہ جان پڑ گئی ہے اور مختلف علاقوں میں سیاحوں کی آمد جاری ہے۔ذرائع کے مطابق گلمرگ، سونمرگ، پہلگام اور دیگر معروف سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہوٹلوں اور رہائش گاہوں میں بکنگز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاحتی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بہتر صورتحال سے اعتماد پیدا ہوا ہے اور توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں وادی میں سیاحت کے شعبے کو نمایاں ترقی حاصل ہوگی۔یہ پیش رفت نہ صرف مقامی معیشت کیلئے باعثِ امید ہے بلکہ وادی کی خوبصورتی کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے سیاحت کے فروغ کیلئے مختلف اقدامات کر رہے ہیں تاکہ وادیٔ کشمیر کو ایک پرامن اور محفوظ سیاحتی مرکز کے طور پر قائم کیا جا سکے۔

دریں اثنا وادیٔ کشمیر کے سیاحتی شعبے کے حوصلے کو بڑھانے کیلئے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے ۸؍ جج اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادی کے معروف سیاحتی مقامات کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کو علاقے کی سلامتی، پرامن فضا اور قدرتی حسن پر ایک مضبوط اعتماد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔دورے پر آنے والے  جج میں جسٹس ونود ایس بھاردواج، جسٹس پنکج جین، جسٹس جسجیت سنگھ بیدی، جسٹس ندھی گپتا، جسٹس ہرکیش منوجا، جسٹس امان چودھری، جسٹس این ایس شیخاوت اور جسٹس وکرم اگروال شامل ہیں۔


Share: