ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ماحولیاتی وزیر نے گریٹ نکوبار منصوبے میں قبائلیوں کے تحفظ کے خدشات کو نظرانداز کیا: جے رام رمیش

ماحولیاتی وزیر نے گریٹ نکوبار منصوبے میں قبائلیوں کے تحفظ کے خدشات کو نظرانداز کیا: جے رام رمیش

Tue, 16 Sep 2025 17:14:51    S O News

نئی دہلی ، 16؍ ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق ماحولیاتی وزیر جے رام رمیش نے ’گریٹ نکوبار میگا انفراسٹرکچر منصوبے‘ پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر ماحولیات بھوپندر یادو نے کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے ایک اخبار میں شائع مضمون کے جواب میں جو وضاحت پیش کی ہے، اس میں منصوبے سے متعلق سب سے اہم خدشات کو بالکل نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

رمیش نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ گریٹ نکوبار منصوبہ دراصل مقامی قبائلی برادریوں کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ ان کے بقول یہ منصوبہ شوم پین قبیلے اور نکوباری لوگوں کو نہ صرف بے دخل کرے گا بلکہ ان کے وجود اور فلاح و بہبود پر بھی کاری ضرب لگائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے کیا گیا ماحولیاتی اثرات کا مطالعہ عجلت میں اور غیر معیاری انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف ادھورا ہے بلکہ اس میں کئی اہم خامیاں بھی موجود ہیں۔ مزید برآں، اس منصوبے کو باقاعدہ منظوری ملنے کے بعد بھی کئی مطالعے کرنا لازم قرار دیا گیا، جس سے اس کے طریقۂ کار کی کمزوری صاف ظاہر ہوتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ماحولیاتی مطالعہ اس وقت شروع کر دیا گیا جب ابھی اس کے لیے باضابطہ شرائط بھی جاری نہیں کی گئی تھیں۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کئی سرکاری اداروں کے سائنسدانوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان پر منصوبے کے حق میں رپورٹ دینے کا دباؤ ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ کچھ سائنسدانوں کو دباؤ سے تنگ آ کر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا۔

قابل ذکر ہے کہ آٹھ ستمبر کو سونیا گاندھی نے ایک اخبار میں شائع اپنے مضمون میں گریٹ نکوبار منصوبے کو ایک "سنجیدہ دوسرا حملہ، انصاف کا مذاق اور قومی اقدار کے ساتھ غداری" قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس منصوبے کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رمیش نے دعویٰ کیا کہ ماہرین کی ویڈیو رپورٹس کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ ان ماہرین نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی شوپین اور نکوباری قبائل کے مطالعے میں گزاری ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ تمام موجودہ قوانین، پالیسیوں اور ضوابط کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر کچھ اضافی علاقوں کو قبائلی محفوظ علاقے قرار دے دیا جائے تو جن مقامات کو منصوبے کے لیے خالی کرایا جائے گا اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ لیکن یہ سوچ قبائلی برادریوں کی اصل ضروریات اور گریٹ نکوبار کی ماحولیاتی و جغرافیائی اہمیت کی سمجھ بوجھ کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

ماحولیات کے تناظر میں، جے رام رمیش نے کہا کہ یہ سوچنا بھی غلط ہے کہ اگر ہریانہ میں درخت لگائے جائیں تو اس سے گریٹ نکوبار کے گھنے، کثیر النوع اور حیاتیاتی تنوع سے بھرپور جنگلات کی کٹائی کا مداوا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ موازنہ سراسر فریب ہے۔


Share: