ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بین مذاہب شادی بغیر مذہبی تبدیلی غیر قانونی: الہ آباد ہائی کورٹ

بین مذاہب شادی بغیر مذہبی تبدیلی غیر قانونی: الہ آباد ہائی کورٹ

Sun, 27 Jul 2025 18:58:49    S O News

الہ آباد، 27 /جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ مذہب تبدیل کیے بغیر بین مذاہب شادی غیر قانونی ہے۔ یہ مشاہدہ ایک ایسے مقدمے میں کیا گیا جس میں ایک نابالغ لڑکی کے اغوا اور آریہ سماج مندر میں شادی کا معاملہ زیر غور تھا۔ درخواست گزار سونو عرف سہنور نے اپنے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ اس نے لڑکی (جو اب بالغ ہے) سے آریہ سماج مندر میں شادی کی ہے اور وہ دونوں ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ تاہم، جسٹس پرشانت کمار نے یہ کہتے ہوئے درخواست خارج کر دی کہ نابالغ سے کی گئی شادی کا سرٹیفکیٹ قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اور اس بنیاد پر فوجداری مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ آریہ سماج جیسے ادارے بغیر قانونی تقاضے مکمل کیے شادی کے سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یوپی ہوم سیکریٹری کو ہدایت دی گئی کہ ایسے آریہ سماج اداروں کی جانچ کرائی جائے جو نابالغ یا بین مذاہب جوڑوں کو بغیر مذہب تبدیلی کے شادی کے سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ یہ تحقیقات ڈی سی پی رینک کے آئی پی ایس افسر کی قیادت میں 29 اگست تک مکمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

درخواست گزار کے خلاف مہاراج گنج ضلع کے نچلاول پولیس اسٹیشن میں اغوا، عصمت دری اور پاکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج ہے، اور چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے۔ ریاستی حکومت نے عدالت میں کہا کہ چونکہ دونوں افراد مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور شادی سے پہلے مذہب کی تبدیلی نہیں کی گئی، اس لیے شادی قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ایسی شادیوں کے سرٹیفکیٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ان پر سختی سے کارروائی ہونی چاہیے۔

آریہ سماج شادی ہندو مذہب کے ویدک اصولوں کے تحت انجام دی جاتی ہے جو سادگی، ویدک منتر، اور اگنی کے سامنے سنسکار پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ شادی صرف ہندو یا ہندو مذہب اختیار کرنے والے افراد کے لیے ممکن ہے، اور اس میں عمر اور شناختی دستاویزات، دو گواہ اور چار تصاویر درکار ہوتی ہیں۔ آریہ سماج کے مطابق یہ شادی ہندو میرج ایکٹ 1955 کے تحت قانونی ہوتی ہے، مگر عدالتیں اکثر اس دعوے کو مسترد کرتی ہیں۔ چھ دن پہلے ایک اور فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ صرف آریہ سماج سرٹیفکیٹ شادی کا مستند ثبوت نہیں ہے، اور طلاق اسٹامپ پیپر پر نہیں ہو سکتی۔

عدالت نے کئی مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آریہ سماج سرٹیفکیٹ خود بخود قانونی شادی کا ثبوت نہیں بن سکتا، جب تک کہ اسے گواہوں اور قانونی شواہد کے ساتھ ثابت نہ کیا جائے۔ گزشتہ سال ہائی کورٹ نے آریہ سماج مندر اور ٹرسٹوں کے ذریعے جاری کیے گئے شادی کے سرٹیفکیٹس کی انکوائری کا بھی حکم دیا تھا، کیونکہ اس سے انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال اور جبری مشقت جیسے خطرات پیدا ہو رہے تھے۔ عدالت نے اس نظام میں سخت قانونی نگرانی اور اداروں کی جواب دہی کو لازمی قرار دیا ہے۔


Share: