ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہندوستان کی روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ، جون میں نیا ریکارڈ قائم ہونے کا امکان

ہندوستان کی روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ، جون میں نیا ریکارڈ قائم ہونے کا امکان

Tue, 30 Jun 2026 17:47:31    S O News

نئی دہلی ، 30/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستان جون 2026 میں روس سے اب تک کا سب سے زیادہ خام تیل خرید سکتا ہے۔ شعبۂ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں ماہ ہندوستان پہنچنے والے روسی خام تیل سے لدے ٹینکروں کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اگر یہی رفتار جاری رہی تو جون میں روس سے تیل کی درآمد کا نیا ریکارڈ قائم ہو سکتا ہے۔

امریکی توانائی کے ماہر اور این جی پی انرجی کیپیٹل منیجمنٹ کے چیف اکانومسٹ انس الحاجی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی ہندوستانی بندرگاہوں پر اتنی بڑی تعداد میں روسی خام تیل کے ٹینکرز نہیں دیکھے۔ انہوں نے ایک نقشہ بھی شیئر کیا جس میں ہندوستان کی مختلف بندرگاہوں کی جانب بڑی تعداد میں روسی تیل لے کر آ رہے جہاز دکھائی دے رہے ہیں۔

روس سے تیل کی درآمدات میں یہ اضافہ یوکرین جنگ کے بعد شروع ہوا۔ اس جنگ کے بعد امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ نتیجتاً روس نے اپنا خام تیل کم قیمت پر فروخت کرنا شروع کر دیا۔ ہندوستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور کم قیمتوں پر بڑی مقدار میں روسی تیل خریدنا شروع کر دیا۔ سستے روسی خام تیل کی خریداری سے ہندوستان کو کئی فائدے ہوئے ہیں۔ اس سے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی ریفائنری کمپنیوں کے منافع میں بھی اضافہ ہوا ہے، کیونکہ انہیں کم قیمت پر خام تیل مل رہا ہے۔

سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے) کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں ہندوستان، روس سے خام تیل کا دوسرا سب سے بڑا خریدار تھا۔ مئی میں ہندوستان نے روس سے تقریباً 5.8 ارب یورو (تقریباً 6.7 ارب ڈالر) کا تیل اور دیگر ایندھن خریدے۔ اس میں صرف خام تیل کی حصہ داری تقریباً 83 فیصد رہی جس کی مالیت تقریباً 4.8 ارب یورو تھی۔

اس کے علاوہ کموڈٹی ڈیٹا اور تجزیہ کرنے والی کمپنی ’کے پی ایل ای آر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان نے جون میں اب تک تقریباً 26 لاکھ بیرل (2.6 ملین بیرل یومیہ) روسی خام تیل درآمد کر چکا ہے۔ یہ اب تک کی سب سے اونچی سطح مانی جارہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور روس سے تیل کی خریداری پر امریکی چھوٹ کا ختم ہونا ہے۔

اس عرصے کے دوران کئی بڑی ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں گجرات میں واڈینار، جام نگر، نیو منگلور، وشاکھاپٹنم اور پارادیپ ریفائنری شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پارادیپ ریفائنری نے گزشتہ 2 سالوں میں سب سے زیادہ روسی خام تیل حاصل کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں ہندوستان کی خام تیل کی کل درآمدات میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ صرف روس سے خام تیل کی خریداری میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

روسی تیل کی برآمد کے حوالے سے مئی میں چین سب سے بڑا خریدار تھا۔ روس کی کل خام تیل کی برآمدات میں چین کا حصہ 50 فیصد ہے۔ ہندوستان 36 فیصد حصہ داری کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، اس کے بعد ترکیہ 6 فیصد اور یورپی یونین (ای یو) 5 فیصد حصہ داری کے ساتھ رہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک روس رعایتی قیمتوں پر تیل فروخت کرتا رہے گا، ہندوستان اپنا خام تیل خریدنا جاری رکھ سکتا ہے۔ اس سے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور تیل کی درآمدی لاگت کو کم رکھنے میں مدد ملے گی۔


Share: