ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ پرستی کو کچل دیا جاتا تو ملک برباد نہ ہوتا: مولانا ارشد مدنی

گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ پرستی کو کچل دیا جاتا تو ملک برباد نہ ہوتا: مولانا ارشد مدنی

Thu, 15 Jan 2026 12:45:51    S O News
گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ پرستی کو کچل دیا جاتا تو ملک برباد نہ ہوتا: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی 15/جنوری (ایس او نیوز) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ پرست عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے کا خمیازہ آج پورا ملک بھگت رہا ہے۔

بدھ کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک تفصیلی بیان میں مولانا مدنی نے کہا کہ گاندھی جی کے قتل کے بعد کا دور ہندوستانی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ تھا، جب فرقہ پرستی کو پوری سختی کے ساتھ کچل دیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق، کانگریس نے اس نازک موقع پر مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کے خلاف نرم اور مفاہمتی رویہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں فرقہ پرست طاقتوں کو پنپنے اور مضبوط ہونے کا موقع ملا، اور ملک کی آئینی و سیکولر بنیادیں کمزور ہو گئیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اگر اس وقت سخت اقدامات کیے جاتے تو ملک آج جن حالات سے دوچار ہے، ان سے بڑی حد تک بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ آزادی کے 77 برس بعد آئین اور جمہوری اقدار کو جس طرح کھلے عام پامال کیا جا رہا ہے، اس کا تصور بھی آزادی کی جدوجہد کی قیادت کرنے والے رہنماؤں نے نہیں کیا ہوگا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر کے مطابق، کانگریس قیادت نے خوف اور سیاسی مصلحت کے تحت فرقہ پرست عناصر کے خلاف نرم رویہ اپنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئین اور قانون کے تحت جن عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تھی، ان کے ساتھ غیر ضروری رعایت برتی گئی، جس کے باعث فرقہ پرست قوتیں وقت کے ساتھ مزید منظم اور طاقتور ہوتی چلی گئیں۔

مولانا مدنی نے مہاتما گاندھی کے قتل کو ملک کی سیکولر روح پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ تقسیم کے بعد جب ملک بھر میں مسلم مخالف فسادات پھوٹ پڑے تو گاندھی جی نے انہیں روکنے کے لیے انشن کیا۔ ان کے مطابق، یہ مؤقف فرقہ پرست طاقتوں کو گوارا نہ تھا، اور کانگریس کے بعض سینئر رہنما بھی اس موقف سے ناخوش تھے۔ یہی مخالفت بالآخر گاندھی جی کے قتل پر منتج ہوئی، جسے مولانا مدنی نے ملک کی سیکولرزم کے قتل سے تعبیر کیا۔

انہوں نے بھارت کے سیکولر آئین کی تشکیل میں جمعیۃ علماء ہند کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق، جمعیۃ نے مسلسل کانگریس قیادت پر دباؤ ڈالا کہ فرقہ پرستی کا خاتمہ کیا جائے اور تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت دی جائے۔ مولانا مدنی نے بتایا کہ آزادی سے قبل کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے تحریری طور پر اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ آزاد بھارت کا آئین سیکولر ہوگا۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ تقسیم کے بعد کانگریس کے ایک طبقے نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ مسلمانوں کے نام پر ایک علیحدہ ملک قائم ہو چکا ہے، اس لیے بھارت کے آئین کو سیکولر رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ مولانا مدنی کے مطابق، جمعیۃ علماء ہند نے اس موقف کو سختی سے مسترد کیا اور کانگریس قیادت کو ان کے وعدوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے جواب دہ ٹھہرایا، جس کے نتیجے میں ایک سیکولر آئین کی تشکیل ممکن ہو سکی۔

اس کے باوجود، مولانا مدنی نے افسوس کا اظہار کیا کہ فرقہ پرستی کے خلاف مؤثر روک تھام نہیں کی گئی، حالانکہ اس وقت مرکز اور تمام ریاستوں میں کانگریس کی حکومت تھی۔ ان کے بقول، اگر کانگریس چاہتی تو فرقہ پرستی کے خلاف سخت قوانین نافذ کر سکتی تھی، لیکن اس کی نرم پالیسی کے باعث فرقہ پرست عناصر خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے رہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر کانگریس آزادی کے ابتدائی برسوں میں فرقہ پرستی کے خلاف وہی سخت موقف اختیار کرتی، جس کا دعویٰ وہ آج کر رہی ہے، تو نہ صرف پارٹی کو اقتدار سے باہر ہونا پڑتا اور نہ ہی ملک آج اس نازک دور سے گزر رہا ہوتا۔


Share: