ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہندوستان میں 87 ہزار سے زائد سرگرم لینڈ سلائیڈ زونز، اروناچل پردیش، ہماچل اور اتراکھنڈ سب سے زیادہ خطرے میں: جی ایس آئی رپورٹ

ہندوستان میں 87 ہزار سے زائد سرگرم لینڈ سلائیڈ زونز، اروناچل پردیش، ہماچل اور اتراکھنڈ سب سے زیادہ خطرے میں: جی ایس آئی رپورٹ

Thu, 28 Aug 2025 18:40:01    S O News

دہرادون ، 28 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) ہندوستان میں اس وقت 87,474 سرگرم لینڈ سلائیڈ (زمین کھسکنے) کے زونز موجود ہیں، جو 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 179 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف حال ہی میں جیولوجیکل سروے آف انڈیا (GSI) کی جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

یہ خطرناک علاقے مجموعی طور پر تقریباً 4.2 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اروناچل پردیش سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے جہاں 26,213 لینڈ سلائیڈ زونز ہیں۔ ہماچل پردیش دوسرے نمبر پر ہے جس میں 17,102 زونز ہیں، جب کہ اتراکھنڈ تیسرے نمبر پر 14,780 لینڈ سلائیڈ زونز کے ساتھ موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں قدرتی آفات، خاص طور پر بارشوں کے دوران زمین کھسکنے اور اچانک سیلاب کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ رودرپریاگ، چمولی، اترکاشی اور تیہری کو ریاست کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھاری بارش اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اس غیر استحکام کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔

جی ایس آئی کے مطابق، اتراکھنڈ کا 22 فیصد جغرافیائی علاقہ ’’انتہائی حساس‘‘ (Highly Sensitive) زمرے میں آتا ہے، جو قومی اوسط (15 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔ ہماچل پردیش میں یہ شرح 26 فیصد، لداخ میں 21 فیصد اور جموں و کشمیر میں 11 فیصد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں لینڈ سلائیڈ زونز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہر مانسون سیزن میں اوسطاً 80 سے 100 نئے خطرناک علاقے دریافت ہو رہے ہیں۔ اگرچہ پرانے مقامات کبھی کبھار غیر فعال ہوجاتے ہیں، لیکن وہ اب بھی اچانک دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ صرف قدرتی عوامل ہی ذمہ دار نہیں بلکہ انسانی مداخلت بھی پہاڑی علاقوں کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔ پروفیسر ڈی کے شاہی کے مطابق، ’’سڑک چوڑی کرنے، پن بجلی منصوبے اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں نے پہاڑوں کو کمزور کر دیا ہے۔ جنگلات کی کٹائی اور نازک ڈھلوانوں پر تعمیرات نے مسئلے کو دوگنا کر دیا ہے۔‘‘

جنوب مغربی مانسون کو زمین کھسکنے کا سب سے بڑا محرک قرار دیا گیا ہے۔ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے ساتھ، بارشیں نہ صرف تیز تر بلکہ بے ترتیب بھی ہو رہی ہیں، جس سے خطرہ اور بڑھ گیا ہے۔ بار بار کلاؤڈ برسٹ اور شدید بارشوں کے واقعات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

حالیہ بڑے حادثات (اگست 2025)

  • دھرا لی اور ہرسل فلیش فلڈز (5 اگست): کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودے نے کئی گاؤں کو دفن کر دیا۔ 1,200 سے زائد افراد کو فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچایا۔

  • اترکاشی-گنگنانی روڈ بلاک (11 اگست): بڑے لینڈ سلائیڈ نے سڑک کو بند کر دیا، ٹریفک اور امدادی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔

  • باگیشور (17 اگست): بھاری بارش سے مٹی کے تودے گرے، متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

  • متعدد کلاؤڈ برسٹ (23 اگست): اچانک سیلاب نے چار دھام یاترا کو متاثر کیا، سڑکیں بہہ گئیں اور یاتری پھنس گئے۔

  • بدری ناتھ ہائی وے بند: لینڈ سلائیڈ اور بارش سے سڑک تباہ ہوئی، یاتریوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا گیا۔

  • رشیکیش-نیکانتھ روڈ (14 اگست): بڑے لینڈ سلائیڈ سے کئی افراد زخمی ہوئے اور دو لاپتہ ہوگئے۔

جی ایس آئی کی رپورٹ نے واضح کیا کہ لینڈ سلائیڈز صرف اتراکھنڈ یا ہمالیائی خطے تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ 19 ریاستوں اور مرکز کے علاقوں کے 179 اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر، لداخ، میزورم، سکم اور میگھالیہ بھی ان خطرناک علاقوں میں نمایاں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری تخفیفی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ عوامی سلامتی اور ترقی دونوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔


Share: