ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل ہائی وے پر نالوں، انڈر پاس اور سروس روڈ کی تعمیر بھی نامکمل؛ مانسون میں نکاسیٔ آب بڑا سوال

بھٹکل ہائی وے پر نالوں، انڈر پاس اور سروس روڈ کی تعمیر بھی نامکمل؛ مانسون میں نکاسیٔ آب بڑا سوال

Tue, 19 May 2026 17:20:29    S O News
بھٹکل ہائی وے پر نالوں، انڈر پاس اور سروس روڈ کی تعمیر بھی نامکمل؛ مانسون میں نکاسیٔ آب بڑا سوال

بھٹکل 19/مئی (ایس او نیوز): ساحلی کرناٹک میں مانسون کی آمد میں اب بمشکل ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، مگر نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبے کے تحت برساتی پانی کی نکاسی کے لئے تعمیر کئے جا رہے نالوں، انڈر پاس اور سروس روڈ کا کام اب تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو گذشتہ سال کے مقابلے امسال برسات کے دوران بھٹکل میں مصنوعی سیلاب کی سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

شہر کے مرکزی علاقوں میں نیشنل ہائی وے کو کئی مقامات پر اونچا کیا گیا ہے جبکہ سروس روڈ کی تعمیر کا کام شروع ہی نہیں کیا گیا ہے اور دوسری طرف نکاسیٔ آب کے انتظامات مکمل نہیں کئے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بارش کا پانی قدرتی بہاؤ کے بجائے سڑکوں اور آبادی والے علاقوں میں جمع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صرف شمس الدین سرکل اور رنگین کٹہ ہی نہیں بلکہ دونوں پٹرول پمپوں سمیت نور مسجد کے سامنے تک کے پورے ہائی وے اسٹریچ میں تالاب جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

موڈ بھٹکل، کائکینی اور دیگر علاقوں میں زیر تعمیر انڈر پاس کا کام بھی سست روی کا شکار ہے۔ کئی مقامات پر مٹی اور پتھروں کے ڈھیر بدستور پڑے ہوئے ہیں جو پانی کی نکاسی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر موسلادھار بارش ہوئی تو پانی ہائی وے اور اطراف کی بستیوں میں جمع ہو جائے گا، جس سے آمدورفت شدید متاثر ہوگی، سروس روڈ یا تو تالاب میں ہلیا پھر کیچڑ میں تبدیل ہوجائے گا جس کے نتیجے میں بالخصوص اسکولی طلبہ اور بزرگ افراد کو سڑک پر سے گذرنے میں بھی دشواری پیش آئے گی۔

شہری علاقے میں رنگین کٹہ سے پی ایل ڈی بینک تک ہائی وے کی موجودہ حالت کو بھی عوام تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی ہلکی بارش کے بعد ہی سڑک کے کنارے کیچڑ سے بھر گئے ہیں جبکہ کئی جگہوں پر گاڑی چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ مقامی افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر معمولی بارش میں یہ صورتحال ہے تو جون اور جولائی میں مسلسل اور تیز بارش کے دوران حالات کس قدر خراب ہوسکتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ برساتی پانی کی نکاسی کے لئے جو نئے نالے تعمیر کئے جا رہے ہیں، ان میں سے بیشتر ابھی ادھورے ہیں اور انہیں شہر کے پرانے مین نالوں سے جوڑا ہی نہیں گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نکاسیٔ آب کا مربوط نظام فوری طور پر تیار نہیں کیا گیا تو بارش کا پانی ندی نالوں کی طرف بہنے کے بجائے سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں جمع ہوگا، جس سے بار بار سیلابی کیفیت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔


Share: