ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا بیان؛ اسلام ختم ہونے کی سوچ ہندؤں کی نہیں، اسلام ہمیشہ رہے گا

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا بیان؛ اسلام ختم ہونے کی سوچ ہندؤں کی نہیں، اسلام ہمیشہ رہے گا

Fri, 29 Aug 2025 15:54:17    S O News

نئی دہلی 29/اگست (ایس او نیوز/پی ٹی آئی): ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ اسلام ہمیشہ ہندوستان میں رہے گا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی اعتماد ضروری ہے۔ وہ آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر ایک سوال جواب اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

موہن بھاگوت نے وضح کیا کہ اسلام ختم ہونے کی باتیں کرنے والے اور اس طرح کی سوچ ہندؤں کی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سنگھ کسی پر حملہ کرنے کے نظریہ پر یقین نہیں رکھتا، چاہے وہ مذہب کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، بلکہ ہر آفت اور مصیبت میں سب کی مدد کے لیے ہمیشہ آگے آیا ہے، چاہے وہ کیرالہ کے سیلاب ہوں یا گجرات کا زلزلہ۔

انہوں نے کہا کہ مذہب ایک انفرادی انتخاب ہے، اس معاملے میں نہ زبردستی ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی کو بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرایا جانا چاہیے۔

بھاگوت نے کہا: ہندو اور مسلمان ایک ہی ہیں… اس لیے اتحاد کی کوئی ضرورت نہیں، صرف عبادت کے طریقے بدلے ہیں۔ بقول بھاگوت؛  ہم پہلے سے ایک ہیں۔ صرف طریقۂ عبادت بدلا ہے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

آر ایس ایس چیف نے مزید کہا کہ اسلام قدیم زمانے سے ہندوستان میں موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ “یہ سوچنا کہ اسلام باقی نہیں رہے گا، ہندو سوچ نہیں ہے۔ دونوں برادریوں کے درمیان اعتماد ہونا ضروری ہے۔”

سڑکوں اور شہروں کے نام بدلنے کے معاملے پر بھاگوت نے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ حملہ آوروں کے نام نہ رکھے جائیں۔ “میں نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان نام نہیں ہونے چاہئیں… اے پی جے عبدالکلام اور عبدالحمید جیسے نام ضرور رہنے چاہئیں۔”

انہوں نے تبدیلیٔ مذہب اور غیر قانونی نقل مکانی کو ملک میں آبادی کے توازن بگڑنے کی بڑی وجوہات قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر سماج کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بھاگوت نے کہا کہ نوکریاں غیر قانونی پناہ گزینوں کو نہیں بلکہ "اپنے لوگوں، جن میں مسلمان بھی شامل ہیں،" کو ملنی چاہئیں۔

غیر قانونی ہجرت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ صحیح ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے لوگوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے، لیکن ہر ملک کے اپنے قوانین ہوتے ہیں اور ہجرت کرنے والوں کو ان قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: “ساری دنیا ایک کنبہ ہے، لیکن ہر جگہ اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ آزادی کے ساتھ ڈسپلن بھی ضروری ہے۔ ملک میں غیر قانونی پناہ گزینوں کو داخل نہ کرنا ‘وسودھیو کٹمبکم’ کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔”

تشدد سے متعلق الزامات پر آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ یہ بے بنیاد ہیں۔ “کوئی تنظیم جو تشدد کرتی ہو، وہ 75 لاکھ مقامات پر نہیں پہنچ سکتی اور نہ ہی اتنی حمایت حاصل کر سکتی ہے۔ اگر ہم ویسے ہوتے تو اس طرح کے پروگرام کرنے کے بجائے زیر زمین چھپتے پھرتے۔”


Share: