سکندرآباد ، 28 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) سکندرآباد میں انسانی اسپرم اور خواتین کے انڈوں کو غیر قانونی طور پر جمع کرکے مختلف شہروں کے فرٹیلٹی مراکز کو فراہم کرنے والے ایک بڑے ریکٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ نارتھ زون ٹاسک فورس نے گوپال پورم پولیس کے ساتھ مل کر ایک نام نہاد "اسپرم ٹیک کلینک" پر چھاپہ مارا اور اس غیر قانونی کاروبار کو بے نقاب کیا۔ اس معاملے میں شامل سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے کلینک کو سیل کر دیا گیا ہے۔
اس کارروائی کی بنیاد ایک خفیہ اطلاع تھی، جس پر انسپکٹر راگھویندر کی قیادت میں چھاپہ مارا گیا۔ کارروائی کے دوران 20 افراد کے اسپرم سیمپل اور دیگر ریکارڈ ضبط کیے گئے۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ مردوں کو اسپرم کے بدلے 800 سے 1500 روپے اور خواتین کو انڈے فراہم کرنے کے عوض 20 سے 25 ہزار روپے دیے جا رہے تھے۔
کلینک کے عملے نے پوچھ گچھ میں انکشاف کیا کہ یہ اسپرم اور انڈے غیر قانونی طور پر جمع کیے جا رہے تھے اور انہیں ملک کے مختلف شہروں میں واقع فرٹیلٹی مراکز کو فراہم کیا جا رہا تھا۔ مزید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ کلینک گزشتہ چار سال سے بغیر کسی قانونی منظوری کے چل رہا تھا، جہاں بھکاریوں، دہاڑی مزدوروں، بے گھر افراد اور بے روزگار نوجوانوں کو معمولی رقم دے کر اسپرم یا انڈے عطیہ کروائے جاتے تھے۔
ضلع میڈیکل اور ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر وینکٹ نے تصدیق کی کہ کلینک کے پاس تولیدی مواد کو جمع یا ذخیرہ کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا سرکاری لائسنس موجود نہیں تھا۔ اگرچہ کلینک انتظامیہ نے لائسنس ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم تفتیش کے دوران اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا۔ حکام کے مطابق ضبط شدہ سیمپل گجرات کے احمد آباد بھیجے جا رہے تھے، جس کی تصدیق کے لیے ایک ٹیم احمد آباد روانہ کی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سکندرآباد کے ایک ٹیسٹ ٹیوب بے بی سینٹر پر ایک جوڑے نے فراڈ کا الزام عائد کیا۔ الزام کے مطابق کلینک نے خاتون کے شوہر کے بجائے کسی اور شخص کا اسپرم استعمال کر کے ایمبریو تیار کیا، جس کے نتیجے میں خاتون IVF کے ذریعے حاملہ ہوئیں اور ایک بچے کو جنم دیا۔ بعد میں جب بچے کو کینسر کی تشخیص ہوئی اور ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا، تو معلوم ہوا کہ بچے کا حیاتیاتی تعلق والدین سے نہیں تھا، جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔
حیدرآباد نارتھ زون کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس رشمی پیرومل نے اسپتال کا دورہ کیا اور معاملے کی تفصیلی جانچ کی۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال تفتیش جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ IVF ایک سائنسی اور مؤثر طریقۂ تولید ہے، جو ان جوڑوں کے لیے امید کی کرن بنتا ہے جو قدرتی طور پر اولاد حاصل نہیں کر سکتے، اور IVF کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے مکمل طور پر صحت مند اور نارمل ہوتے ہیں۔