بھٹکل، 28 فروری (ایس او نیوز): بھٹکل میں شمس الدین سرکل کے اطراف جاری نیشنل ہائی وے فورلین توسیعی منصوبے کے تحت آج سنیچر کو سرکل پر قائم تاریخی کلاک ٹاور کو منہدم کردیا گیا۔ ہائی وے کی کشادگی کے لیے کی جانے والی اس کارروائی کے دوران علاقے میں خاصی گہماگہمی دیکھنے میں آئی۔
پولیس انسپکٹر دیواکر کی قیادت میں پولیس کی موجودگی میں دوپہر تقریباً تین بجے تین سے چار جے سی بی مشینوں کی مدد سے انہدامی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ کلاک ٹاور کے اوپری حصے پر نصب تقریباً دو ٹن وزنی گرانائٹ کے پتھر کو ہٹانے میں لگ بھگ دو گھنٹے کا وقت لگا، جس کے باعث نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔ پتھر ہٹانے کے بعد مکمل طور پر ٹاور کو زمین بوس کرنے تک شام کے چھ بج چکے تھے۔
یہ کلاک ٹاور ریاست میسور (موجودہ کرناٹک) کے 1950 کی دہائی کے ڈپٹی فائنانس منسٹر اور بھٹکل کے سرکردہ سیاسی رہنما جوکاکو شمس الدین کے نام سے منسوب شمس الدین سرکل پر قائم تھا۔ اس خوبصورت یادگار کی تعمیر 2002 میں بھٹکل کے معروف تاجر اور پیور گولڈ کے مالک شبیب کولا نے تقریباً دس لاکھ روپے کی لاگت سے کروائی تھی۔ ٹاور کو چار دلکش ستونوں پر قائم کیا گیا تھا، جن کے اوپر دو ٹن وزنی گرانائٹ کا بڑا پتھر نصب تھا۔ ستونوں کے اندر گولڈ سے پالش کئے گئے دو بڑے خوبصورت کنگن اس انداز میں نصب کئے گئے تھے کہ یہ ٹاور شہر کی ایک منفرد شناخت بن گیا تھا۔

شبیب کولا کے مطابق اس ٹاور کی تعمیر کا مقصد بھٹکل میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی برادریوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے اسے “سمبل آف یونٹی” کے تصور کے تحت تعمیر کیا تھا تاکہ یہ یادگار مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان یکجہتی کی علامت بن سکے۔
قابل ذکر ہے کہ کلاک ٹاور کی تعمیر سے قبل اس مقام کے اطراف لوہے کی جالی نما گیٹ نصب تھی اور کناروں پر بیٹھنے کے لیے پتھریلے بینچ بھی رکھے گئے تھے، جہاں شہری اکثر سستانے اور باہمی ملاقاتوں کے لیے جمع ہوتے تھے۔
اب جبکہ نیشنل ہائی وے کی توسیع کے بعد شمس الدین سرکل کی شکل و صورت مکمل طور پر تبدیل ہو رہی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بھٹکل میونسپلٹی یا کارپوریشن اس تاریخی مقام کو نئی شناخت اور خوبصورتی دینے کے لیے کیا منصوبہ ترتیب دیتی ہے۔