ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شمالی ہند شدید گرمی کی لپیٹ میں، دہلی سمیت درجنوں شہر ’بھٹی‘ بن گئے، درجہ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا

شمالی ہند شدید گرمی کی لپیٹ میں، دہلی سمیت درجنوں شہر ’بھٹی‘ بن گئے، درجہ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا

Thu, 21 May 2026 17:42:30    S O News

نئی دہلی ، 21/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) ملک کے شمالی حصے اس وقت شدید اور غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں جہاں کئی شہر ’بھٹی‘ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ دہلی-این سی آر سمیت شمالی ہندوستان کے درجنوں علاقوں میں سورج کی تپش اور لو نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر درجۂ حرارت خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے۔

دہلی میں گرمی کی شدت مسلسل برقرار ہے اور منگل کو بعض علاقوں میں درجۂ حرارت 45 سے 46.3 ڈگری سیلسیس تک ریکارڈ کیا گیا۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق منگیش پور میں سب سے زیادہ درجۂ حرارت 46.3 ڈگری سیلسیس جبکہ ریج میں 45.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہوا۔ گروگرام اور غازی آباد میں بھی پارہ 42 ڈگری کے آس پاس رہا۔ آئی ایم ڈی نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 6 دن تک دہلی-این سی آر میں شدید گرمی اور لو کی صورتحال برقرار رہے گی، جبکہ بعض علاقوں میں درجۂ حرارت 47 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔ دن کے ساتھ ساتھ راتیں بھی غیر معمولی حد تک گرم ہو گئی ہیں، جس سے عوام کو کسی بھی وقت راحت ملنے کے امکانات کم ہیں۔

دوسری جانب اسکائی میٹ ویدر کی رپورٹ کے مطابق ملک کے کم از کم 40 شہر اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور درجۂ حرارت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ان میں زیادہ تر شہر شمالی ہند کے ہیں، جن میں اتر پردیش کے تقریباً 20 شہر شامل ہیں۔ باندہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں درجۂ حرارت 48 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ اٹاوہ، اوریہ، ایٹہ، الٰہ آباد، فتح پور، مین پوری اور سنبھل جیسے شہر بھی شدید گرمی کی زد میں ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ بحیرۂ عرب کے اوپر بننے والا نیا موسمی نظام مانسون کی ہواؤں کو کمزور کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ہند خصوصاً کیرالہ میں بارش میں کمی کا خدشہ ہے۔ آئندہ ایک ہفتے کے دوران مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، اڈیشہ، چھتیس گڑھ، پنجاب، گجرات اور مہاراشٹر میں خشک اور گرم ہواؤں کے چلنے کا امکان ہے، جس سے درجۂ حرارت 45 ڈگری یا اس سے زیادہ رہ سکتا ہے۔

موسمی ماہرین کے مطابق مغربی خلل (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے کمزور ہونے کی وجہ سے ملک میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے۔ محکمۂ موسمیات نے شہریوں کو احتیاط برتنے، ہلکے کپڑے پہننے، پانی کا زیادہ استعمال کرنے اور براہِ راست دھوپ سے بچنے کی ہدایت دی ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے یہ موسم خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔


Share: