چندی گڑھ ، 31/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے مدھو کشور کو اس مقدمے میں پیشگی ضمانت دینے سے انکار کر دیا، جس میں ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گمراہ کن دعوے پھیلانے کا الزام ہے۔
مدھو کشور نے 18 اپریل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر یا مبینہ طور پر ری پوسٹ کی تھی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس میں نریندر مودی دکھائی دے رہے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا اور ویڈیو میں موجود شخص مودی نہیں تھا۔ بعد ازاں یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
اس معاملے میں چنڈی گڑھ پولیس نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ مدھو کشور کے خلاف بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت رپورٹ درج کی گئی ہے، جن میں ہتکِ عزت، مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا، سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا، دھوکہ دہی، جعل سازی، جعلی دستاویز یا الیکٹرانک ریکارڈ کو اصلی کے طور پر استعمال کرنا اور عوامی فساد یا شرانگیزی کا باعث بننے والے بیانات دینا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی بعض دفعات بھی عائد کی گئی ہیں۔
جسٹس امن چودھری نے اپنے حکم میں کہا کہ مدھو کشور نے بار بار نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود پولیس تفتیش میں تعاون نہیں کیا اور تفتیشی ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئیں۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مدھو کشور ایک معروف سوشل میڈیا شخصیت اور اسکالر ہیں، اس لیے یہ نہیں مانا جا سکتا کہ وہ اپنی پوسٹ کے ممکنہ اثرات سے ناواقف تھیں۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ ویڈیو پہلے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود تھی، لیکن مدھو کشور کے تبصرے کے ساتھ اسے شیئر کرنے کے بعد اسے تقریباً 1.7 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
عدالت کے مطابق ویڈیو کو ایک آئینی عہدے پر فائز شخصیت سے مشابہ قرار دینے کی قیاس آرائیاں کی گئیں اور بعد میں ان کی جانب سے دوبارہ پوسٹ کرنے سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا۔
عدالت نے مدھو کشور کی بعض دیگر مبینہ متنازع پوسٹوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’’تعمیری تنقید‘‘ اور کسی شخص کو بدنام کرنے، اس پر الزامات لگانے یا اس کی کردار کشی کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ جب بڑی تعداد میں فالوورز رکھنے والا شخص ایسی پوسٹ کرتا ہے تو اس کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔
عدالت کے مطابق ایسی پوسٹ سماجی بے چینی، علیحدگی پسند جذبات اور ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ مقدمے میں استعمال کیے گئے طریق کار کی مکمل حقیقت ابھی سامنے آنا باقی ہے، اس لیے اس مرحلے پر مدھو کشور کو پیشگی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
مدھو کشور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی پوسٹ کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں تھی اور انہیں غلط طور پر مقدمے میں ملوث کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے محض ویڈیو کو ری ٹویٹ کیا تھا۔
دوسری جانب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مدھو کشور نے صرف ری ٹویٹ نہیں کیا بلکہ مبینہ طور پر کسی دوسرے پلیٹ فارم سے ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرکے اپنے اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی تھی۔
پولیس کے مطابق انہوں نے نہ صرف غلط معلومات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا بلکہ حکومت کے سربراہ کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔