ہلیال 3 / اپریل (ایس او نیوز) شہر کے سب جیل میں جیلر کی خدمات انجام دینے والا کلّپّا گستی رشوت خوری کے الزام میں لوک آیوکتہ کے جال میں پھنس گیا ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق کئی برسوں سے یہاں خدمت انجام دے رہے سب جیلر کلّپّا گستی نے قتل کے ایک ملزم سے پچاس ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ 2022 میں اپنی بیوی کو قتل کرنے کا ملزم راجکمار ہوندیکر شہر کی سب جیل میں قید تھا ۔ پھر وہ عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد جیل سے رہا ہوا تھا ۔ اس نے جیل میں قید رہنے کے دوران قُلی مزدوری کے ذریعے کمائے ہوئے 1.40 لاکھ روپے وصول کرنے کی کوشش کی تو جیلر نے پچاس ہزار روپے رشوت طلب کی۔
معلوم ہوا ہے کہ ایک مہینے قبل متاثرہ ملزم نے لوک آیوکتہ کے پاس شکایت درج کروائی تھی جس کی تفتیش کے دوران فون کالس کے ریکارڈز، پیسے کے لین دین جیسے تکینکی شواہد کی بنیاد پر اس معاملے کی صداقت سامنے آنے کے بعد لوک آیوکتہ پولیس نے کل صبح سب جیل پر چھاپہ مارا اور تقریباً 7 گھنٹے تک جیلر کلّپّا گستی سے پوچھ تاچھ کی ۔ اس دوران جیلر کا موبائل فون ضبط کرنے کے علاوہ ان کی آواز کے سیمپل اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد اکٹھا کیے گئے ہیں جس سے رشوت خوری کے کیس کو مضبوط بنایا جائے گا ۔
پتہ چلا ہے کہ لوک آیوکتہ کے ذریعے بچھائے گئے جال کے تحت متاثرہ شخص جیلر کو رقم ادا کرنے کے لئے سب جیل پہنچتا تو جیلر کلّپّا اس سے براہ راست رقم وصول کرنے کے بجائے بار بار رقم وصولی کرنے کا مقام بدل رہا تھا اور وقت گزرتا جا رہا تھا ۔ اس دوران اس نے دھارواڑ میں رہنے والے ایک ایڈوکیٹ کے کھاتے میں فون پے کے ذریعے 10 ہزار روپے ٹرانسفر کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ اس طرح کے ڈیجیٹل اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر سب جیلر کے خلاف بدعنوانی کا کیس تو بن گیا ہے، لیکن ابھی اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لوک آیوکتہ کی دو ٹیموں کی ذریعے ملزم کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے اور کیس کے لئے درکار مزید ثبوت اکٹھا کیے جا رہے ہیں ۔