ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / این ایس اے حراست کیس: الہ آباد ہائی کورٹ کی سرزنش پر نوئیڈا ڈی ایم میدھا روپم کو کانگریس کی تنقید

این ایس اے حراست کیس: الہ آباد ہائی کورٹ کی سرزنش پر نوئیڈا ڈی ایم میدھا روپم کو کانگریس کی تنقید

Wed, 09 Sep 2026 16:53:05    S O News

نئی دہلی ، 9/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس نے منگل کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی بیٹی اور نوئیڈا کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم پر سخت تنقید کی۔ یہ تنقید الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دہلی یونیورسٹی کی ایک طالبہ آکروتی چودھری کو قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست میں لینے کے معاملے میں ضلع مجسٹریٹ کی سرزنش کے بعد سامنے آئی ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف طالبہ اور سماجی کارکن آکرتی چودھری کی حراست کا حکم منسوخ کردیا بلکہ اسے ۵؍لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا۔

عدالت نے ہدایت دی کہ یہ رقم ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم اور اس فیصلے میں شامل دیگر افسران سے وصول کی جائے۔کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ’ایکس‘ پر عدالتی فیصلے سے متعلق ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’گیانیش کمار گپتا کی بیٹی کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ’آمرانہ افسر‘ قرار دیا ہے۔ ‘‘ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا موئترا نے بھی اسی معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’جیسا شرمناک باپ، ویسی ہی شرمناک بیٹی ،جمہوریت کیلئے باعث شرم، قانون کے مقررہ طریقۂ کار کیلئے باعث شرم۔ نوئیڈا کی ڈی ایم میدھا روپم، ممتاز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قابلِ فخر بیٹی ہیں۔ ہمیں ہندوستان کو اس لعنت سے پاک کرنا ہوگا۔‘‘

ادھر گوتم بدھ نگر (نوئیڈا) میں ایک اور طالب علم کے خلاف کارروائی سے متعلق ایک الگ مگر اسی نوعیت کی پوسٹ میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے شریک کنوینر سورَو داس نے گوتم بدھ یونیورسٹی کے طالب علم اکشَت ترپاٹھی سے مبینہ طور پر ۵؍ لاکھ روپے کا بانڈ طلب کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی سی جے پی کے ایک احتجاج میں اس کی شرکت کے سلسلے میں کی گئی ہے۔سورَو داس نے لکھاکہ ’’کیا گوتم بدھ نگر کی ڈی ایم نے سپریم کورٹ کا یکم ستمبر کا تاریخی حکم نہیں پڑھا؟ تمام مظاہرین کو سی جے پی کے احتجاج میں شرکت پر کسی بھی قانونی کارروائی سے مستقل طور پر مکمل تحفظ حاصل ہے۔ اکشت ترپاٹھی کو ۵؍ لاکھ روپے کا ضمانتی بانڈ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو پر مشتمل ڈویژن بنچ نے آکرتی چودھری کو قومی سلامتی قانون کے تحت مسلسل حراست میں رکھنے پر سخت سست کہا تھا ۔ بنچ نے آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت حاصل فرد  کےبنیادی حق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ڈی ایم کو نشانہ بنایا تھا ۔ عدالت نے پایا کہ حراست کے حکم کے حمایت میں مناسب مواد موجود نہیں تھا اور یہ حکم ’’دماغ کا استعمال  کئےبغیر‘‘ جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ، جنہوں نے متنازع حکم جاری کیا، کا طرزِ عمل قانون کے مطابق نہیں ہے۔میدھا روپم کا مقصد آکرتی چودھری کو ’مثال بنانا‘ اور دوسروں کو مزدوروں کی حمایت میں آزادانہ اظہارِ رائے کے اپنے حق کا استعمال کرنے سے روکنا تھا۔عدالت نے خبردار کیا کہ سرکاری افسران کا اس طرح کا ’آمرانہ‘ طرزِ عمل اترپردیش کو ایک ’اورویلیائی ڈیسٹوپیا‘ میں تبدیل کرسکتا ہے، جہاں ریاستی طاقت شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق پر غالب آجائے۔ہائی کورٹ نے میدھا روپم اور معاملے میں شامل پولیس افسران کے طرزِ عمل پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی اور حکم دیا کہ اس ناراضی کا اندراج ان کے سروس ریکارڈ میں کیا جائے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ آکرتی چودھری کو۵؍ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے جو متعلقہ افسران کی تنخواہوں سے وصول کیا جائے، اور اس کی ذمہ داری تھانے کے ایس ایچ او تک پر عائد کی جائے۔

عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی بحث تیز ہوگئی ہے، خصوصاً اسلئے کہ ڈی ایم میدھا روپم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی ہیں۔پولیس کا الزام تھا کہ آکرتی چودھری اور ان کے ساتھیوں نے احتجاج کے دوران تشدد بھڑکانے کی سازش کی تھی تاہم الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس میں ایسا کوئی مواد موجود ہی نہیں ہے۔ 


Share: