بھٹکل ، 27 / جولائی (ایس او نیوز) اتر کنڑا ضلع کا بھٹکل جو صاف ستھرے لباس اور رہن سہن والے عوام کے شہر کے طور پر معروف ہے، ادھر پچھلے کچھ برسوں سے سڑکوں کے کناروں پر کچروں کے ڈھیر اور اس سے اٹھنے والی سڑاند کے لئے بدنام ہوتا نظر آ رہا ہے ۔
شہر کو جدید تر سہولتوں سے آراستہ اور ترقی یافتہ دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے سرکاری اور نجی سطح پر آئے دن کوئی نہ کوئی چھوٹا یا بڑا منصوبہ بنتا رہتا ہے ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر شہر میں نیشنل اور ریاستی ہائی ویز کی توسیع و تعمیر اور یو جی ڈی کام بھی چلتا ہے ۔
بد قسمتی یہ ہے کہ ایک طرف نیشنل ہائی وے 66 کو فور لین میں بدلنے کا کام ایسے ادھورے اور غیر معیاری انداز میں ہو رہا ہے کہ برسہا برس کچھوے کی چال چل رہا ہے اور اس کی وجہ سے ہائی وے کے اطراف کا پورا علاقہ پیدل راہگیروں اور موٹر سواریوں کے لئے ایک آفت بن کر رہ گیا ہے ۔ دوسری طرف یو جی ڈی منصوبے کے تحت پورے شہر میں سڑکوں کی کھدائی نے لوگوں کی آمد و رفت کو جان جوکھم میں ڈالنے کا معاملہ بنانے کے ساتھ صاف پانی کے کنووں کو گٹر چیمبرس میں تبدیل کر دیا ہے ۔

یہ آفتیں کیا کم تھیں کہ شہر میں مختلف مقامات پر کچروں کے ڈھیر نے ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ کریلا اور نیم چڑھا کے مصداق مسلسل برسات کے دوران کچرے کے ڈھیر سڑنے سے اطراف میں بسنے والوں کا جنیا حرام ہو گیا ہے ۔ اس پر ایک اور اضافی مصیبت کتوں کی چھینا جھپٹی اور آوارہ گردی ہے جو انہی کچرے کے ڈھیروں کے دم پر چل رہی ہے ۔
لہٰذا اب بھٹکل کے عوام کا سب سے اہم مسئلہ سڑک کے کنارے، نکڑوں، گلیوں کے موڑ اور بالخصوص نیشنل ہائی وے کے کنارے پر جمع ہونے اور سڑنے والے کچرے کے ڈھیر بن گئے ہیں ، جسے دوسرے علاقوں کے لوگ خاموشی کے ساتھ پھینک کر چلے جاتے ہیں اور اس متعلقہ علاقے میں بسنے والے عوام ایک دوسرے کو کوسنے اور شہری بلدی اداروں کے ذمہ داروں کو صلواتیں سنانے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پاتے ۔
شہر کے بلدی اداروں کی جانب سے گھر گھر سے کچرا اٹھانے اور ٹھکانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہو، ایسا بھی نہیں ہے ، ایک دو علاقوں میں نظر آنے والی کچھ کوتاہیوں کو چھوڑ کر بلدی اداروں کی طرف سے بالعموم کچرا نکاسی کا نظام چل رہا ہے، البتہ اس میں مزید بہتری لانے اور مستعدی و ضابطگی کے ساتھ کچرا نکاسی کی کارروائی انجام دینے کی ضرورت ہے ۔
سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ صفائی ، ستھرائی، حفظانِ صحت اور صحت عامہ کے تعلق سے شعور بیدار کرنے کی لاکھ کوشش کے باوجود عوام کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کی سوچ اور رویہ میں مکمل تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ وہ اب بھی اپنا کچرا دوسرے علاقوں کی نالیوں یا خالی جگہوں میں پھینکنے سے باز نہیں آتے ۔ بعض تو اپنا کچرا کہیں نہ کہیں سڑک پر پھینکنے کے عادی ہوگئے ہیں اور وہ بلدیہ کے کچرا نکاسی کے سسٹم کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے اور بعض لوگ کچرا نکاسی کا مناسب اور بر وقت انتظام نہ ہونے پر اپنا کچرا چپکے سے کسی دوسرے علاقے میں پھینک کر اطمینان سے اپنی راہ لیتے ہیں ۔
افسوس تو یہ ہے کہ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس، بظاہر ہوشمند اور پڑھے لکھے افراد بھی دو پہیہ گاڑیوں پر سوار ہو کر سڑکوں سے گزرتے ہوئے ذرا سا سنسان علاقہ نظر آتے ہی کچرے کی پوٹلیاں اور تھیلیاں پھینکنے میں کوئی عیب محسوس نہیں کرتے ۔
تماشہ یہ ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں جہاں مقامی افراد یا بلدی اداروں کے ذمہ داران مخصوص جگہوں پر موجود کچرے کا ڈھیر ہٹانے اور صفائی کرنے کے بعد "یہاں کچرا پھینکنا منع ہے"، "یہاں سی سی ٹی وی کیمرا لگا ہے" ، "کچرا پھینکنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے گی" جیسے بورڈ یا نوٹس لگاتے ہیں، اسی مقام پر دو ایک دن کے اندر لوگوں کی نظروں سے بچتے ہوئے کچرا پھینکنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جاتا ہے ۔ اور چند دنوں کے اندر ہی وہاں کچرے کا ڈھیر اپنی سڑاند پھیلاتا اور لوگوں کا منہ چڑاتا نظر آتا ہے ۔
حالت یہ ہے کہ بھٹکل ٹاون میونسپالٹی کی طرف سے شہری علاقے سے قریب ہی ساگر روڈ پر کچرا نکاسی اور ذخیرہ کرنے کا مرکز قائم رہنے کے باوجود اس مرکز سے ذرا دوری پر واقع علاقے کے علاوہ پورورگا، حنیف آباد کراس، وینکٹاپور سے قریب نیشنل ہائی وے کے کنارے ہائی وے کے کنارے غیر ذمہ دارانہ انداز میں پھینکنے گئے کچروں کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں جیسے یہی کچرا نکاسی کے مراکز بن گئے ہوں ۔ ان کچرے کے ڈھیروں پر پلنے والے صرف آوارہ کتے ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے بڑے پیمانے پر جنگلی سوروں کی پرورش بھی ہو رہی ہے جو انسانوں کے لئے خطرے کا سبب بن گئے ہیں ۔
نیشنل ہائی وے کی توڑ پھوڑ اور التوا میں پڑے ہوئے نامکمل تعمیری کام کی وجہ سے لوگوں کے لئے بحفاظت سڑک کے کنارے گزرنا ویسے ہی مشکل تھا مگر ہائی وے کے کنارے پر پڑا ہوا کچرے کا ڈھیر سڑک تک پہنچنے لگا ہے جس سے وہاں سے گزرنا ہی ناممکن ہو جاتا ہے ۔ دوسری طرف برسات کی وجہ سے پہلے سے ہائی وے پر موجود گڈھوں کی تعداد اور گہرائی و چوڑائی میں بہت زیاد اضافہ ہوگیا ہے اور یہ صورتحال موٹر گاڑیوں کے لئے حادثات اور جان لیوا خطرات کا سبب بن گئی ہے ۔
شہر کی اس حالت کو دیکھ کر سوچنا پڑتا ہے کہ کیا واقعی یہ ایک صاف ستھرے اور مہذب عوام کا کوئی خوبصورت سا شہر ہو سکتا ہے !
ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کے بلدی اداروں کو ایک طرف کچرا نکاسی نظام کو مزید بہتر کرنے اور اس میں پائی جانے والی کوتاہیوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لئے موثر اقدام کرنا چاہیے ۔ عوامی جگہوں اور سڑکوں کے کناروں پر سے کچروں کے ڈھیر ہٹانے کے بعد وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے تک ہی محدود نہیں رہتے ہوئے ان علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور ان کیمروں کی مدد سے قصور وار افراد کو پہچان کر ان کے خلاف جرمانہ عائد کرنے جیسی کارروائی بھی لازمی طور پر کرنا چاہیے ۔ اس کے بغیر موجودہ صورت حال میں کسی تبدیلی کی توقع کرنا بے وقوفوں کی دنیا میں رہنے کے برابر ہے ۔