احمد آباد، 12 جون (ایس او نیوز) : گجرات کے احمد آباد میں آج دوپہر ایئر انڈیا کا لندن جانے والا مسافر طیارہ پرواز کے فوراً بعد ہی خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں اب تک 130 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، جب کہ 100 سے زائد زخمیوں کا علاج مختلف اسپتالوں میں جاری ہے۔ زخمیوں میں بیشتر کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایئر انڈیا کی پرواز AI-171، جس میں 242 افراد سوار تھے، نے احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دوپہر 1:38 بجے پرواز بھری تھی، لیکن چند منٹوں بعد ہی طیارہ زمین پر گر کر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ حادثہ احمد آباد کے میگھانی علاقے میں واقع ہارس کیمپ کے قریب پیش آیا، جو سول اسپتال کے قریب واقع ہے۔ طیارہ حادثے کے وقت شدید دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 230 مسافر، 2 پائلٹس اور 10 کیبن کریو ممبران سوار تھے۔ مسافروں میں 169 ہندوستانی، 53 برطانوی، 7 پرتگالی اور 1 کناڈائی شہری شامل تھے۔ برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس طیارے میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجئے روپانی بھی سوار تھے، جو لندن میں اپنی بیٹی رادھیکا سے ملاقات کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ طیارہ کی 2-D سیٹ پر بیٹھے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ شدید زخمی ہیں، تاہم ان کی حالت یا مقام کے بارے میں حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ان کی بیوی انجلی بین گزشتہ چھ ماہ سے لندن میں مقیم تھیں، جنہیں واپس لانے کے لیے روپانی روانہ ہوئے تھے۔
حادثہ کی خبر ملتے ہی پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے فوری طور پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل، ریاستی وزیر داخلہ اور ڈی جی پی سے رابطہ کیا اور حالات کی تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انھوں نے راحت اور بچاؤ کارروائیوں کے لیے مرکزی حکومت کی مکمل مدد کا یقین دلایا۔ وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل خود بھی سورت سے احمد آباد روانہ ہو گئے اور جائے حادثہ پر تمام انتظامات کا جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اس حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فوری راحتی کارروائیوں اور زخمیوں کے جنگی سطح پر علاج کی ہدایت دی۔ اسپتالوں کو الرٹ کر کے گرین کوریڈور بھی بنایا گیا تاکہ زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال پہنچایا جا سکے۔
ڈی جی سی اے کے مطابق طیارہ بوئنگ-787 وی ٹی-اے این بی تھا، جس کی کمان کیپٹن سُمت سبھروال اور فرسٹ آفیسر کلائیو کندر کے پاس تھی۔ کیپٹن سبھروال کو 8200 گھنٹے اور کندر کو 1100 گھنٹے پرواز کا تجربہ حاصل تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ طیارہ یا تو ایئرپورٹ کی دیوار یا کسی درخت سے ٹکرا کر زمین پر آ گرا، تاہم حادثہ کی حتمی وجہ تاحال سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔
ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس واقعہ کی مکمل جانچ جاری ہے اور جلد ہی مزید تفصیلات ایئر لائن کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر جاری کی جائیں گی۔