ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی کے مہرولی میں پانچ منزلہ عمارت زمین بوس، کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ

دہلی کے مہرولی میں پانچ منزلہ عمارت زمین بوس، کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ

Sun, 31 May 2026 11:34:21    S O News
دہلی کے مہرولی میں پانچ منزلہ عمارت زمین بوس، کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ

نئی دہلی ، 31/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) جنوبی دہلی کے مہرولی تھانہ علاقہ میں 30 مئی کی شام ایک مکان اچانک منہدم ہونے کے بعد علاقہ میں افراتفری مچ گئی۔ اس حادثہ کی اطلاع دہلی فائر سروس کو شام تقریباً 7.44 بجے موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں موقع پر روانہ کی گئیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ مہرولی تھانہ کے تحت سیدالعجائب میں 5 منزلہ عمارت اچانک گر گئی۔ ریسکیو ٹیم نے سرگرمی دکھاتے ہوئے فوری طور پر کم از کم 4 لوگوں کو ملبہ سے باہر نکال لیا ہے۔ حالانکہ اب بھی کئی لوگوں کے ملبہ میں دبے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ اس 5 منزلہ عمارت کا کچھ حصہ ابھی بن ہی رہا تھا۔ یعنی عمارت پوری طرح بن کر تیار نہیں ہوئی تھی۔ اچھی بات یہ ہے کہ فائر بریگیڈ محکمہ کو جیسے ہی حادثہ کی اطلاع ملی، فوراً جائے وقوع پر پہنچ گئی۔ حالانکہ محکمہ کو پہلے ساکیت علاقہ سے عمارت منہدم ہونے کی اطلاع ملی تھی، پھر بعد حقیقی جائے وقوع کی جانکاری حاصل ہوئی اور ٹیم وہاں پہنچ کر ریسکیو مہم میں مصروف ہو گئی۔ حادثہ والی جگہ پر مقامی لوگوں کی مدد سے تیزی کے ساتھ ملبہ کو ہٹایا جا رہا ہے۔ جن 4 لوگوں کو ملبہ سے باہر نکالا گیا ہے، انھیں فوراً علاج کے لیے قریبی اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مکان کے ملبے میں کئی افراد کے دبے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جائے وقوع پر راحت اور بچاؤ کا کام جنگی سطح پر جاری ہے۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے ساتھ دیگر امدادی ایجنسیاں بھی موقع پر موجود ہیں اور ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دہلی فائر سروس کے حکام نے بتایا کہ واقعہ سے متعلق تفصیلی معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ فی الحال انتظامیہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئی ہے اور امدادی کارروائیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس حادثہ کے باعث علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی مہم مکمل ہونے کے بعد ہی نقصان اور ہلاکتوں کے بارے میں درست معلومات سامنے آ سکیں گی۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے اپنی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالہ سے بتایا ہے کہ اس عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چل رہا تھا اور اوپری منزلوں پر تعمیراتی کام جاری تھا۔ یعنی بلڈنگ میں ایک طرف تعمیراتی کام جاری تھا، اور دوسری طرف عمارت کے کچھ حصوں کا استعمال بھی کیا جا رہا تھا۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حادثہ کے وقت کوچنگ میں کچھ طلبا موجود تھے۔ ساتھ ہی اوپر کچھ مزدور بھی کام کر رہے تھے۔ حالانکہ ملبہ میں پھنسے یا دبے ہوئے لوگوں کی صحیح تعداد کے بارے میں فی الحال کوئی آفیشیل جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

کچھ چشم دید لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کثیر منزلہ عمارت کچھ ہی لمحوں میں زمین دوز ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کنکریٹ اور لوہے کے سریوں کا ڈھیر جمع ہو گیا۔ سیدالعجائب کی تنگ گلیوں اور بڑی آبادی کی وجہ سے راحت رسانی کے کام میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حادثہ کے بعد مقامی لوگ اپنے موبائل کی فلیش لائٹ اور ٹارچ جلا کر فائر بریگیڈ ٹیم کی مدد کر رہے ہیں۔ تنگ راستوں میں ریسکیو کی گاڑیوں کے لیے جگہ بنانے کے مقصد سے لگاتار بھیڑ کو ہٹایا جا رہا ہے، لیکن لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر موجود ہے۔


Share: