نئی دہلی 12/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) : ملک کی راجدھانی دہلی میں سائبر کرائم کی ایک نہایت تشویشناک اور خوفناک واردات سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ میں اقوامِ متحدہ (UN) کے لیے تقریباً 48 برس تک خدمات انجام دینے والے ایک بزرگ NRI ڈاکٹر جوڑے کو ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘ کے نام پر 15 دن تک ذہنی طور پر قید رکھ کر ان کی عمر بھر کی کمائی، تقریباً 14 کروڑ 85 لاکھ روپے، سائبر ٹھگوں نے ہتھیا لی۔
متاثرہ افراد کی شناخت ڈاکٹر اوم تنیجا (81 سال) اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر اندرا تنیجا (77 سال) کے طور پر ہوئی ہے، جو سنہ 2015 میں امریکہ سے وطن واپس آنے کے بعد جنوبی دہلی کے پوش علاقے گریٹر کیلاش-2 میں مقیم تھے اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ تھے۔
24 دسمبر کی ایک فون کال، جس نے سب کچھ بدل دیا
ڈاکٹر اندرا تنیجا کے مطابق، 24 دسمبر کو دوپہر کے وقت انہیں ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں کالر نے خود کو ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) کا افسر بتایا۔ اس شخص نے دعویٰ کیا کہ اندرا تنیجا کے فون نمبر سے فحش اور نازیبا کالز کی گئی ہیں، جس پر 26 شکایات درج ہو چکی ہیں، اور ان کا نمبر منقطع کیا جا رہا ہے۔
جب اندرا تنیجا نے واضح کیا کہ بتایا گیا نمبر ان کا نہیں ہے، تو بات اچانک منی لانڈرنگ، جعلی بینک اکاؤنٹس اور سنگین مالی جرائم کی طرف موڑ دی گئی۔ ٹھگوں نے کہا کہ ان کے نام پر ممبئی کے کینرا بینک میں ایک اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، جس کے ذریعے بڑے پیمانے پر فراڈ کیا گیا ہے۔
’قومی سلامتی‘ کا خوف اور گرفتاری کی دھمکی
بات چیت کے دوران ٹھگوں نے PMLA (منی لانڈرنگ ایکٹ)، گرفتاری وارنٹ، ایف آئی آر اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ کا حوالہ دیا۔ متاثرہ خاتون کو بتایا گیا کہ معاملہ اب قومی سلامتی سے جڑ چکا ہے اور اگر انہوں نے کسی کو بھی اس بارے میں بتایا تو نہ صرف گرفتاری بلکہ جان کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی مرحلے پر ڈاکٹر جوڑے کو نفسیاتی طور پر ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کر لیا گیا۔
15 دن کی ڈیجیٹل قید: ہر لمحہ نگرانی
24 دسمبر سے لے کر 9 جنوری تک، ڈاکٹر اندرا تنیجا اور ان کے شوہر کو مسلسل ویڈیو کال پر رکھا گیا۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ کسی عزیز، دوست یا حتیٰ کہ بچوں کو بھی کچھ نہ بتائیں. واٹس ایپ، سوشل میڈیا اور فون کالز محدود رکھیں۔گھر سے باہر جانے یا بینک جانے کی صورت میں بھی ویڈیو کال آن رکھیں۔ اندرا تنیجا کے مطابق، انہیں بار بار کہا جاتا تھا: ’’آپ سرویلانس پر ہیں، کسی سے بات کی تو فوراً گرفتاری ہوگی۔‘‘
جعلی پولیس افسر، سپریم کورٹ اور فرضی جج
ٹھگ کبھی خود کو ممبئی کی کولابہ پولیس کا افسر بتاتے، کبھی ڈیوٹی آفیسر اور کبھی سپریم کورٹ سے منسلک اہلکار۔ ایک موقع پر ویڈیو کال پر پولیس وردی میں ملبوس ایک شخص نظر آیا، جس نے اپنا نام ’وکرانت سنگھ راجپوت‘ بتایا، اور پس منظر میں پولیس کے نشان بھی دکھائے گئے۔
اسی دوران ڈاکٹر اندرا تنیجا سے سپریم کورٹ کے نام پر کئی خطوط بھی لکھوائے گئے، جن میں ان کی سماجی خدمات، این جی او اور ٹرسٹ سے وابستگی کی تفصیلات شامل کروائی گئیں۔ انہیں یقین دلایا گیا کہ اگر رقم ’’جانچ‘‘ کے لیے منتقل کر دی جائے تو RBI کے ذریعے پوری رقم واپس ہو جائے گی اور انہیں ’’کلین چِٹ‘‘ مل جائے گی۔
بینک میں رٹی رٹائی اسکرپٹ
ٹھگوں نے بینک جانے سے پہلے مکمل اسکرپٹ تیار کروا دی۔ انہیں سکھایا گیا کہ اگر بینک منیجر سوال کرے تو کہنا ہے: شوہر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ کسی دوست کو قرض دینا ہے۔یا ماحولیات و صحت سے متعلق پروجیکٹ کے لیے فنڈ درکار ہے۔
جب ڈاکٹر اندرا تنیجا پہلی بار بینک پہنچیں تو منیجر نے سوال کیا، مگر انہوں نے وہی جواب دیا جو انہیں سکھایا گیا تھا۔
آٹھ ٹرانزیکشنز میں 14.85 کروڑ کی رقم
15 دن کے دوران آٹھ مختلف RTGS ٹرانزیکشنز کے ذریعے رقم منتقل کروائی گئی: کبھی 2 کروڑ روپے، کبھی 2.10 کروڑ، کبھی تقریباً 1.99 کروڑ۔ یوں مرحلہ وار 14 کروڑ 85 لاکھ روپے نکلوا لیے گئے۔ ہر بار انہیں یقین دلایا جاتا رہا کہ یہ محض رسمی کارروائی ہے اور 100 فیصد رقم واپس ملے گی۔
تھانے پہنچنے پر ٹوٹا فریب
10 جنوری کی صبح ٹھگوں نے نیا ڈرامہ رچایا اور کہا کہ اب مقامی پولیس اسٹیشن چلے جائیں، جہاں سے RBI کے ذریعے رقم ری فنڈ ہوگی۔ ڈاکٹر اندرا تنیجا جب تھانے پہنچیں تو اس وقت بھی ٹھگ ویڈیو کال پر موجود تھے اور SHO سے بدتمیزی سے بات تک کروائی گئی۔
تاہم، اسی لمحے حقیقت سامنے آ گئی اور ڈاکٹر جوڑے کو معلوم ہوا کہ وہ 14 کروڑ 85 لاکھ روپے کی ایک بڑی سائبر ٹھگی کا شکار ہو چکے ہیں۔

ثبوت، اسکرین شاٹس اور مکمل نگرانی
متاثرہ جوڑے نے بینک اسٹیٹمنٹ، SMS الرٹس، واٹس ایپ چیٹس اور کال لاگز پولیس کو فراہم کیے ہیں۔ کینرا بینک کے اسٹیٹمنٹ کے مطابق: 30 دسمبر 2025 کو RTGS کے ذریعے 2 کروڑ روپے منتقل کیے گئے۔ SMS الرٹس میں Fioresta Foundation کے اکاؤنٹ کا ذکر موجود ہے۔ موبائل اسکرین پر WhatsApp Screen Sharing / Screen Broadcast آن دکھائی دیا، جس سے واضح ہے کہ ٹھگ متاثرہ خاتون کے فون کی اسکرین براہِ راست دیکھ رہے تھے۔
پولیس کارروائی، IFSO کو تحقیقات
واقعے کے بعد دہلی پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش اسپیشل سیل کی سائبر یونٹ IFSO کے حوالے کر دی ہے۔ پولیس منی ٹریل، جعلی دستاویزات، ویڈیو کال نیٹ ورک اور ڈیجیٹل اریسٹ گینگ کی مکمل جانچ کر رہی ہے۔
ڈاکٹر اوم تنیجا نے اعتراف کیا کہ ’’پولیس سے بروقت رابطہ نہ کرنا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی۔‘‘
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی سنگین یاد دہانی ہے کہ سائبر ٹھگ اب نہایت منظم، نفسیاتی دباؤ اور سرکاری اداروں کی جعلی شناخت کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور کسی بھی مشتبہ کال یا دھمکی کی صورت میں فوری طور پر 1930 سائبر کرائم ہیلپ لائن یا قریبی پولیس اسٹیشن سے رجوع کرنا بے حد ضروری ہے۔